تصوف: مثبت اور منفی پہلو
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ آج کے لیے بہت متعلق اور بامعنی بات ہے۔ موجودہ زمانہ میں عام انسانوں کو بھی جنگ کی نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے۔ اسی طرح خود مسلمانوں کو جنگ جو یا نہ اسلام سے زیادہ صوفانہ اسلام کی ضرورت ہے۔ آج سب سے زیادہ اسلام کے اسی پہلو پر ہم کو زور دینا چاہیے۔ ایک تمثیلی قصہ ہے جو صوفی کے کردار کو بہت خوبی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ قصہ یہ ہے کہ ایک صوفی بزرگ کا قافلہ چل رہا تھا۔ اس نے درمیان میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ یہاں بہت سے درخت تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد بہت سے فاختہ غول کی صورت میں وہاں آگئے اور درخت کے اوپر منڈلانے لگے۔ اسی کے ساتھ وہ کچھ بولیاں بھی نکال رہے تھے جیسے کہ وہ کسی بات پر احتجاج کر رہے ہوں۔ بزرگ نے ان سے پوچھا تو فاختہ کے لیڈر نے جواب دیا کہ ہمارا ایک جوڑا یہاں ایک درخت پر پتیوں کے سایہ میں آرام کر رہا تھا کہ آپ کے ایک مرید نے پتھر سے مار کر ایک فاختہ کو گرالیا اور اس کو ذبح کر ڈالا۔ بزرگ نے اس آدمی کو بلا کر اس سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ حضرت، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ یہ جانور تو ہماری خوراک ہیں۔ ان کو مارنا ہمارے لیے حلال ہے۔ پھر اگر میں نے ایک فاختہ کو مار کر ذبح کیا تو میں نے کون سا غلط کام کیا۔ بزرگ نے مرید کا یہ جواب فاختہ کے لیڈر تک پہنچایا۔ اس نے کہا کہ ہماری شکایت یہ نہیں ہے۔ ہماری شکایت تو یہ ہے کہ آپ لوگ یہاں صوفی کے روپ میں آئے۔ مگر آپ نے شکاری والا کام کیا۔ آپ کو صوفی کے روپ میں دیکھ کر ہم مطمئن ہو گئے تھے کہ آپ سے ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر آپ شکاری کے روپ میں ہوتے تو ہم نے بھی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیا ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader