تصوف: مثبت اور منفی پہلو
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
صوفیا کی یہی خصوصیت ہے جو دورِ قدیم میں اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنی۔ مسلم بادشاہ جو اس ملک میں آئے وہ گویا شکاری کے روپ میں آئے، چنانچہ لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنے آپ کو شکاری سے بچاؤ۔ اس طرح وہ اسلام سے دور ہو گئے ۔ اس کے برعکس صوفیا نے اپنے آپ کو بے ضرر انداز میں پیش کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوموں کے لوگ کثرت سے صوفیا کے قریب آنے لگے۔ اس قربت نے ان کو اسلام کی خصوصیات سے آشنا کرایا۔ ان کی بڑی تعداد اسلام کی خوبیوں کو جان کر اسلام میں داخل ہو گئی۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ ان کے والد صاحب جو خود بھی بڑے صوفی تھے۔ وہ اکثر ان کے سامنے یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ دونوں عالم کی راحت صرف دو لفظ میں چھپی ہوئی ہے۔ دوستوں کے ساتھ نرمی اور دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک: آسائش دو گیتی تفسیر ایں دو حرف است با دوستان تلطف با دشمنان مدارا صوفیا کے نقطۂ نظر کو مشہور صوفی شاعر حافظ شیرازی نے بہت خوبی کے ساتھ ان دو مصرعوں میں بیان کیا ہے، ہم نے سکندر اور دارا جیسے بادشاہوں کے قصے نہیں پڑھے ہیں۔ تم کو پوچھنا ہے تو ہم سے صرف محبت اور وفا کی باتیں پوچھو: ما قصہ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس صوفیا کے اسی مسلک نے ان کو ہر خاص و عام کا محبوب بنا دیا۔ اپنے اور غیر سب ان کے یہاں آنے لگے۔ مخالف بھی اگر ان کے پاس آتا تو ان کے حسن اخلاق سے ان کے سامنے جھک جاتا تھا۔ صوفیا کے اس مسلک سے ایک طرف معاشرہ میں امن اور محبت کی قدروں کو فروغ ہوا، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ مہر و محبت کے اس عمومی پھیلاؤ نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سے قومی رقابت کو مٹا دیا۔ لوگ معتدل فضا میں ایک دوسرے سے ملنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader