Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاط کے نتیجہ میں فطری طور پر ایسا ہوا کہ اسلام کی خوبیاں لوگوں کے اوپر واضح ہونے لگیں۔ وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے۔ تصوف کے متعلق ایک غلط فہمی یہ ہے کہ وہ ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر جہاں تک حقیقی تصوف کا تعلق ہے، یہ بات درست نہیں۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے بجاطور پر لکھا ہے کہ "جس چیز کو صوفیہ نے ترک کیا وہ دنیا نہ تھی، دنیا کا بے اعتدالانہ استعمال تھا" (تاریخ مشائخ چشت، جلد 1، صفحہ 32)۔ کسی نظریہ کی صحت کا ایک معیار یہ ہے کہ وہ زندگی کے کسی پہلو سے ٹکراتانہ ہو۔ بلکہ اس میں زندگی کے ہر پہلو کی رعایت موجود ہو۔ یہ صفت تصوف میں پوری طرح موجود ہے۔ تصوف میں اندرونی قدروں پر زور دیا جاتا ہے۔ تصوف میں خارجی ٹکراؤ کے بجائے داخلی حقیقتوں کو بیدار کیا جاتا ہے۔ یہ اصول سراپا رحمت ہے۔ اس اصول کو زندگی کے جس پہلو پر چسپاں کرکے دیکھیں وہ درست اور مفید ہی نکلے گا۔ مثال کے طور پر صحت جسمانی کا مسئلہ بظاہر ایک متعلق مسئلہ ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھیے تو تصوف کے نقطہ نظر میں صحت جسمانی کی رعایت بھی پائی جارہی ہے۔ کیوں کہ تصوف میں روحانیت، قناعت اور فیصلہ الہی پر راضی ہونا اور مثبت نفسیات میں جینا سکھایا جاتا ہے اور یہ تمام چیزیں براہ راست طور پر صحت جسمانی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی مثال پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ تصوف کا دوسرا پہلو تاہم یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ ہر چیز ابتداءٔ فطرت کی سطح پر شروع ہوتی ہے، اور بعد کو وہ غلو بن جاتی ہے۔ یہی تصوف کے ساتھ بھی ہوا۔ دورِ اول کے صوفیا فطرت کے دائرہ میں تھے۔ مگر بعد کے صوفیا نے غلو کیا۔ انھوں نے تصوف پر اسلام کا رنگ غالب رکھنے کے بجائے خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page