Urdu book · فکر اسلامی

تصوف کا دوسرا پہلو

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام پر تصوف کا رنگ غالب کرنا شروع کیا۔ اس طرح تصوف میں فائدے کے ساتھ کچھ نقصانات بھی شامل ہو گئے۔ اسلام بلاشبہ روحانیت کا مذہب ہے۔ مگر اسلام کی روحانیت پوری انسانی ہستی سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ پورے انسانی وجود کو غذا پہنچانے والی ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں تصوف کی جو صورت بنی وہ انسان کی اصل ہستی سے الگ ایک مستقل شعبہ بن گئی۔ یہ تصوف زندگی کے لیے ایک ضمیمہ بن گیا نہ کہ زندگی کے لیے قوت محرکہ۔ بدقسمتی سے یہ واقعہ اس زمانہ میں پیش آیا جب کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی۔ روایتی دور ختم ہو رہا تھا اور سائنسی دور ایک غالب قوت کے طور پر دنیا میں تیزی سے ظاہر ہو رہا تھا۔ اس زمانہ میں چوں کہ مسلم معاشرہ پر صوفیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا، چناںچہ مسلمان مجموعی حیثیت سے اس عالمی عمل سے کٹ گئے۔ اسی کا نتیجہ ہے وہ پچھڑا پن جو آج مسلم دنیا میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ دور اول کے اسلامی تصوف نے علوم فطرت میں تحقیق کی راہ ہموار کی تھی۔ مگر دوسرے دور کا تصوف علوم فطرت میں تحقیق کے لیے سدراہ بن گیا۔ امیر شکیب ارسلان (1946-1869ء) نے تقریباً 70 سال پہلے ایک کتاب لکھی تھی ۔ اس کا نام تھا : لِمَاذَا تَأَخَّرَ الْمُسْلِمُونَ، وَلِمَاذَا تَقَدَّمَ غَيْرُهُمْ ؟ (مسلمان کیوں پچھڑ گئے اور دوسری قومیں ان سے آگے کیوں ہوگئیں) ۔ اس وقت سے اب تک اس موضوع پر ہزاروں مضامین اور کتابیں چھپ چکی ہیں۔ مگر اصل سوال بدستور ابھی تک باقی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سائنسی پسماندگی پر تمام اہل فکر متفق ہیں۔ مگر اس پسماندگی کا سبب کیا ہے ۔ اس پر کوئی متفقہ رائے سامنے نہ آسکی۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ پچھلی صدیوں میں پیدا ہونے والا یہی غلو آمیز تصوف ہے جو اس زمانہ میں پورے مسلم معاشرہ پر چھایا ہوا تھا۔ سائنس حقائق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page