تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
دین حق اور دین فطرت ہے ، اس کے خلاف موجودہ منفی پروپیگنڈا در اصل خود مسلم علما اور مفکرین کی کوتاہیوں کی قیمت ہے، نہ کہ مفروضہ اعداء اسلام کی کوئی سازش۔ اس کی ایک مثال لیجئے۔ 27 نومبر 1995 کو ہمارے دفتر میں دہلی کے دو تعلیم یافتہ اصحاب آئے۔ ایک مسٹر نسیم نقوی (Tel. 528099) اور دوسرے مسٹر آرن کمار (6851387 .Tel) جو مسٹر نسیم نقوی کے گہرے دوست ہیں۔ اتفاق سے اس وقت میرے سامنے مسٹر آرن شوریٰ کی تازہ کتاب ورلڈ آف فتوی (The World of Fatwas) رکھی ہوئی تھی۔ چنانچہ ”فتویٰ “ کے موضوع پر گفتگو شروع ہو گئی۔ میں نے کہا کہ مسٹر آرن شوریٰ نے اپنی اس کتاب میں فتوی کو شریعت کی عملی صورت (Shariah in Action) کہا ہے۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ فتویٰ شریعت کی عملی صورت نہیں ہے۔ وہ کسی جزئی معاملہ میں ایک عالم کی رائے (opinion) ہے، جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ شریعت مقدس ہے مگر فتویٰ مقدس نہیں ، خواہ وہ کتنے ہی بڑے عالم کا فتویٰ کیوں نہ ہو ۔ امام شافعی کا قول فتویٰ کی حیثیت کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ، اور دوسروں کی رائے خطا ہے احتمال صحت کے ساتھ (رَأْيُنَا صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَرَأْيُ غَيْرِنَا خَطَأُ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ، وَمَنْ جَاءَنَا بِأَفْضَلَ مِنْهُ قَبِلْنَاهُ ) ۔ مثال کے طور پر امام ابو حنیفہ نے فتویٰ دیا کہ ایک غیر عربی داس ایرانی نومسلم نماز میں سورہ فاتحہ فارسی زبان میں پڑھ سکتا ہے۔ صاحبین (قاضی ابو یوسف ، امام محمد) نے اس سے اختلاف کیا۔ بعد کو امام ابو حنیفہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا (النفحۃ القدسیة فی أحکام قراءة القرآن وكتابته بالفارسية للشرنبلالی ، بتحقیق د. اسامہ الحیانی ، 2015 ، صفحه 139)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتویٰ اپنے آخری درجہ میں پہنچ کر بھی صرف ایک انسانی رائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader