Urdu book · فکر اسلامی

تصوف کا دوسرا پہلو

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعی کو غور و فکر کا موضوع بناتی ہے۔ اس کے برعکس، غلو آمیز تصوف، خواب اور مکاشفہ اور پر اسرار مظاہر میں گم ہونے کا نام ہے۔ پچھلی صدیوں میں تصوف کے اسی غلبہ نے مسلمانوں کے ذہن کو حقائق خارجی سے دور کر رکھا تھا۔ دوسری طرف انھیں صدیوں میں اہل مغرب حقائق خارجی میں غور اور تحقیق کا سلسلہ جاری کیے ہوئے تھے۔ اسی فکری فرق کا نتیجہ وہ عملی فرق ہے جو آج مغربی دنیا کے مقابلہ میں مسلم دنیا کا نظر آتا ہے۔ یہاں میں ایک معروف صوفی کا ایک واقعہ نقل کروں گا جس سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ یہ مثال علامتی طور پر پورے طبقہ، صوفیا پر چسپاں ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی مسلمہ طور پر ایک عظیم صوفی تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کی شفقت میرے حال پر ایسی تھی کہ کم کسی باپ کی بیٹے پر، کسی استاد کی شاگرد پر اور کسی شیخ کی مرید پر ہوگی۔ شاہ عبدالرحیم صاحب کی تربیت کا انداز کیا تھا، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ بتاتے ہیں کہ زمانہ طفولیت میں ایک روز احباب و اعزه کی ایک جماعت کے ساتھ ایک باغ کی سیر کو چلا گیا۔ جب واپس آیا تو والد صاحب نے فرمایا کہ ولی اللہ، تم نے اس دن رات میں وہ کیا حاصل کیا جو باقی رہے۔ ہم نے تو اس مدت میں اتنا درود پڑھا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میرا دل باغات کی سیر و تفریح سے بالکل ہٹ گیا۔ اس کے بعد پھر کبھی اس کا شوق پیدا نہیں ہوا (تاریخ دعوت و عزیمت، ازمولانا ابو الحسن علی ندوی، حصہ پنجم، صفحہ 103)۔ یہ واقعہ علامتی طور پر اس مزاج کو بتاتا ہے جو صوفیا کے یہاں پایا جاتا تھا۔ معرفت خداوندی کے حصول کے لیے وہ صرف متصوفانہ تدبیروں کو جانتے تھے جن کا تمام تر انحصار مراقبہ اور ورد الفاظ جیسے اعمال پر تھا۔ عالم کون (جس کا ایک حصہ باغ ہے) پر غور و تدبر کو وہ غیر معیاری چیز سمجھ کر عملاً ترک کیے ہوئے تھے۔ یہی ترک بالواسطہ انداز میں، موجودہ دور کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page