تصوف کا دوسرا پہلو
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کے لیے علوم فطرت میں پسماندگی کا سبب بن گیا ۔ اکابر صوفیا کا زمانہ ہی جدید دنیا میں سائنس اور علوم فطرت کے نشو و ارتقاء کا زمانہ ہے۔ ذیل کے نقشہ سے اس زمانی تقابل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے : 1117-1214 خواجہ معین الدین چشتی 1207-1273 جلال الدین رومی 1243-1325 نظام الدین اولیاء 1428-1517 سید محمد غوث 1593-1624 شیخ احمد سرہندی 1624-1739 خواجہ نقش بندحجۃ اللہ 1703-1762 شاہ ولی اللہ دھلوی 1786-1831 سید احمد بریلوی 1817-1899 حاجی امداداللہ مہاجر مکی 1863-1943 اشرف علی تھانوی كے روز اور ماهِ ماه ہے، کہ خط میں مداری رہے تھے۔ جس زمانہ میں دنیا فطرت کا مطالعہ کر کے جدید دور سائنس کو ظہور میں لارہی تھی، اسی زمانہ میں مسلم قوم میں صوفیا کے زیر اثر فطرت سے دور ہو کر گوشوں اور کونوں میں اعتکاف کو دین سمجھ بیٹھی تھیں۔ ایسی حالت میں اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ وہ دور سائنس میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں۔ میری مراد یہ نہیں ہے کہ اہل تصوف نے براہ راست طور پر لوگوں سے کہا کہ تم لوگ سائنس سے دور رہو اور ہرگز سائنسی علم حاصل نہ کرو۔ میرا کہنا یہ ہے کہ غلو آمیز تصوف کے نتیجہ میں مسلم معاشرہ میں جو مزاج پیدا ہوا وہ سائنسی مزاج کے بالکل برعکس تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader