تصوف کا دوسرا پہلو
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنسی مزاج آدمی کو حقائقِ خارجی کی مطالعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر اس تصوف نے آدمی کو صرف پر اسرار باطن کی طرف متوجہ کر دیا۔ سائنسی مزاج تخلیقی فکر پیدا کرتا ہے اور متصوفانہ مزاج آدمی کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سائنسی مزاج آدمی کے اندر دریافت کا جذبہ ابھارتا ہے اور متصوفانہ مزاج آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ وہ بس اپنے شیخ پر اعتماد کرے اور اپنی عقل کے دروازے کھولنے کی کوشش نہ کرے۔ قرآن میں سب سے پہلی آیت (1: 96) یہ اتاری گئی کہ اِقْرَأُ (پڑھ)۔ اس کے برعکس، بعد کے صوفیا نے لوگوں کو یہ سبق دیا کہ کتابوں کو اور کاغذ کو جلا ڈالو: صد کتاب و صد ورق در نار کن قرآن نے عالم کائنات پر غور و فکر میں معرفت کا راز بتایا تھا (3:190)۔ اس کے برعکس، بعد کے صوفیا نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ شیخ ہی تمام کمالات کا خزانہ ہے، شیخ سے نسبت حاصل کرو اور تمام دینی اور دنیوی کمالات تم کو حاصل ہو جائیں گے۔ دورِ اول کے مسلمان قرآن کے فکر سے متاثر ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے علم کے میدان میں زبردست ترقیاں کیں۔ اولاً انھوں نے دینی علوم کو اپنا میدان تحقیق بنایا اور اسلام کے کتب خانہ کو ہر اسلامی موضوع کی کتابوں سے بھر دیا۔ اس کے بعد وہ علوم دنیا (یا علوم فطرت) کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور اس دوسرے میدان میں بھی غیر معمولی ترقیاں حاصل کیں، حتی کہ وہ جدید علمی انقلاب کا آغاز کرنے والے بن گئے۔ مگر بعد کو مسلم معاشرہ پر صوفیا کا غلبہ ہو گیا۔ انھوں نے غلو آمیز تصوف کے ذریعہ مسلم نسلوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیا۔ دورِ اول میں جو قوم علمی کارواں کی سردار تھی، بعد کے دور میں وہ صرف گرد کارواں بن کر رہ گئی۔ صوفیا نے بعد کے دور میں روحانی سلوک کے لیے جو اجتہادی نظام بنایا وہ تو بلاشبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader