فکر اسلامی
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
Moral Code of Conduct for Muslims living in non-Muslim lands. ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان لوگوں سے ڈائریکٹ کنفرنٹیشن (direct confrontation) ہو لیکن اگر ہم اس کے ذریعہ مسلم عوام کو پیغام پہنچا سکیں تو بہت مناسب رہے گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ صحابہ کرام حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ کیا اس پر کچھ مواد دستیاب ہے۔ کہ انھوں نے وہاں کس طرح زندگی گزاری۔ نوٹ: الخلافہ کے لوگ اس پر زور دیتے ہیں کہ کافروں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست ہرگز نہ بنایا جائے ۔ کیوں کہ قرآن میں اس ضمن میں واضح احکامات موجود ہیں۔ ظاہر ہے ہے کہ یہ خارج از سیاق بات ہے ورنہ قرآن کریم میں تو ان لوگوں سے رشتہ داریاں کرنے کی بھی چھوٹ ہے۔ جیسے کہ سورہ مائدہ، آیت نمبر 50 ۔ مزید برآں یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا قانون، کسی بھی ملک کے قانون سے زیادہ احترام کا حامل ہے۔ لہذا ہمیں کار انشورنس وغیرہ نہیں کرانی چاہیے۔ کیوں کہ یہ غیر اسلامی ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے کام ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے اچھے نتیجے نکلنے والے نہیں ہیں۔ (شمشاد محمد خان، برمنگھم) اسلامک ایکٹوزم اسلام ایک طریق زندگی (way of life) ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی نہ صرف اسلام پر عمل کرے بلکہ وہ دوسروں تک بھی اسے پہنچائے۔ اس اعتبار سے اسلام ایک شخصی رویہ ہونے کے ساتھ ایک عالمی مشن بھی بن جاتا ہے۔ اسلام کو پھیلانے کا طریقہ کیا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلامک ایکٹوزم کیا ہے۔ اسلامک ایکٹوزم در اصل دعوہ ایکٹوزم ہے۔ یعنی ٹکراؤ (confrontation) سے مکمل طور پر اعراض کرتے ہوئے سختی کے ساتھ صرف ترغیب (persuasion) کے دائرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader