Urdu book · فکر اسلامی

اسلامک ایکٹوزم

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

میں رہ کر کام کرنا۔ اسلامک ایکٹوزم کا یہ تصور واضح طور پر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ قرآن میں یہ اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِر (21-22:88)۔ یعنی، پس تم ان کو نصیحت کرو، تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم ان کے اوپر داروغه نہیں ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کی ذمہ داری یا اسلامی مشن کا نشانہ لوگوں کے اوپر اسلامی سسٹم کا عملی نفاذ نہیں ہے ۔ بلکہ پرامن حدود میں رہتے ہوئے لوگوں کو اسلام سے باخبر کرنا ہے۔ داعی اسلام کی ذمہ داری صرف پیغام کو پہنچانا ہے، اس کے بعد یہ مدعو کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو مانے یا وہ اس کا انکار کر دے۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3560)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امروں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تھا تو آپ ہمیشہ دونوں سے آسان کا انتخاب کرتے تھے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ معاملات میں ہمیشہ آدمی کے سامنے دو انتخاب (آپشن) ہوتے ہیں۔ ایک آسان انتخاب (easier option) اور دوسرا مشکل انتخاب (harder option) حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا مشکل انتخاب کو چھوڑ کر آسان انتخاب (easier option) کو لے لینا ۔ اجتماعی معاملات میں یہ واضح ہے کہ ترغیب (persuasion) کا طریقہ مقابلہ آسان آپشن ہے اور ٹکراؤ کا طریقہ ہمیشہ مشکل آپشن ۔ یہ سہل پسندی نہیں ہے۔ یہ دراصل نا قابل عمل کو چھوڑ کر اس کو اختیار کرنا ہے جو قابل عمل اور sustainable ہو۔ اس لیے اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ ہر معاملہ میں صرف وہی کورس اختیار کیا جائے جو مقابلہ آسان ہو۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پرامن طریقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page