اسلامک ایکٹوزم
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
(peaceful method) کو اختیار کرتے ہوئے کام کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مگر جہاں تک تشدد کا سوال ہے تو اس کا استعمال کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔ اس لحاظ سے زمانہ کے معروف پرامن ذرائع کے دائرہ میں رہتے ہوئے کام کرنا اسلامی طریقہ ہوگا اور متشددانہ ذرائع کو استعمال کرنا یقینی طور پر غیر اسلامی طریقہ قرار پائے گا۔ جہاں تک خلافت یا اسلام کے سیاسی نظام کا سوال ہے، وہ ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ مطلق حکم۔ اس کے قیام کے لیے تشدد یا جنگ کا طریقہ اختیار کرنا کسی بھی طرح اسلام میں جائز نہیں۔ کیوں کہ جب بھی ایسا کیا جائے گا تو موجودہ (existing) نظام سے عملی ٹکراؤ پیش آ جائے گا۔ اور قائم شدہ نظام ایسی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کرے گا۔ اس طرح جو چیز پہلے چھوٹا شر (lesser evil) کے درجہ میں تھی وہ زیادہ بڑا شر (greater evil) کی سطح تک پہنچ جائے گی۔ مزید یہ کہ عملی ٹکراؤ پیش آنے کے نتیجہ میں پرامن دائرہ میں کام کرنے کے مواقع بھی برباد ہو جائیں گے۔ ایسا ہر اقدام قرآن کے الفاظ میں فساد فی الارض (2:205) قرار پائے گا۔ وہ ایک جرم ہوگا، نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔ اسلام کا سیاسی نظام ہمیشہ عوام کی مرضی سے قائم ہوتا ہے، نہ کہ عوام کے اوپر بہ جبر اس کو نافذ کرنے سے۔ جبری نفاذ (imposition) نہ تو ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ قرآن کے مطابق، دوسروں کے خلاف جنگ کا آغاز کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں (9:13)۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لیے ہے، نہ کہ جارحیت کے لیے (2:190)۔ مزید یہ کہ اگر کوئی گروہ جنگ چھیڑنا چاہے تب بھی آخری حد تک اس سے اعراض کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام میں دفاعی جنگ بھی اسی وقت ہے جب کہ فریق ثانی نے عملی جارحیت کر کے دوسرا کوئی انتخاب (option) ہمارے لیے باقی ہی نہ رکھا ہو۔ مسلمان خواہ کسی مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں، دونوں حالتوں میں انھیں ملک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader