Urdu book · فکر اسلامی

تعارف مسئلہ

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، وہ کسی بھی درجہ میں مقدس شریعت کا کوئی لازمی حصہ نہیں۔ شریعت کی حقانیت کو جانچنے کا معیار خدا اور رسول کا کلام ہے۔ کوئی انسانی کلام اس کا معیار نہیں بن سکتا، کیوں کہ انسان کا کلام ایک اضافی کلام ہے، وہ غلط بھی ہو سکتا ہے اور درست بھی۔ مسٹر ارن کمار نہایت شریف اور بے تعصب آدمی ہیں۔ وہ کسی بھی درجہ میں اسلام کے معاند نہیں۔ مگر انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو میرے لیے سخت حیرت ناک تھی۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے تو فتویٰ کا کچھ اور ہی مطلب بتایا۔ ہم تو اب تک یہ سمجھتے تھے کہ فتویٰ کا مطلب سزائے موت (death sentence) ہے۔ مسٹر ارن کمار جیسے مسلم دوست کو اتنی بڑی غلط فہمی کیسے ہوئی کہ انھوں نے فتویٰ کو سزائے موت کا حکم سمجھ لیا۔ اس کا واحد سبب سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی (وفات 1989) کا فتویٰ (1985) تھا۔ سلمان رشدی کی کتاب (سیٹلک ورسز) کی اشاعت کے بعد ایران کے آیت اللہ روح اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ رشدی شاتم رسول ہے، اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس فتویٰ کی اشاعت کے بعد ساری دنیا کی میڈیا (اخبار، ریڈیو، ٹی وی) نے اس کو خوب خوب پبلسٹی دی۔ ساری دنیا میں اس کا چرچا ہونے لگا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام یا پیغمبر اسلام کے خلاف کچھ لکھے یا بولے تو اس کو فوراً قتل کر دو، اس کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔ مزید یہ کہ کسی کو مجرم بتا کر اس کو قتل کرنے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اس قسم کا ایک فتویٰ کسی عالم کی طرف سے جاری کیا جائے۔ بے شمار غیر مسلم اس واقعہ سے پہلے ”فتویٰ“ کے لفظ سے نا آشنا تھے، اب انھوں نے بار بار ان باتوں کو سنا۔ ایک طرف فتویٰ، اور دوسری طرف شاتم کے لیے قتل کی سزا۔ وہ سمجھے کہ فتویٰ سے مراد قتل کی سزا ہے۔ جب کسی کو موت کی سزا دینا ہو تو اسلام میں اس کے خلاف ایک حکم جاری کیا جاتا ہے جس کا نام فتویٰ ہے۔ اور جب کسی کے خلاف فتویٰ جاری ہو جائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page