Urdu book · فکر اسلامی

اسلامک ایکٹوزم

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

کے دستور اور قانون کا پابند رہنا چاہیے ۔ دستور اور قانون کی خلاف ورزی کرنا یا اسلام کے نام پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا کسی بھی حال میں مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ قانون کی حد ہی ہمارے عمل کی حد بھی ہے ۔ جہاں قانونی اجازت کی حد آجائے ، اس کے بعد ہمارے لیے صبر ہے ، نہ کہ ٹکراؤ اور قانون شکنی ۔ جو مسلمان غیر مسلم ملکوں میں رہتے ہیں ، یعنی ان ملکوں میں جہاں کی اکثریت غیر مسلم ہے اور وہاں ان کی مرضی کا سیاسی نظام قائم ہے ، وہاں مسلمان کی حیثیت مُعاہد کی ہے ، خواہ دونوں کے درمیان لفظی معاہدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ وہاں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ملکی قوانین و ضوابط کی پابندی لازمی طور پر ضروری ہے ۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کی خلاف ورزی ان مسلمانوں کے لیے جائز نہیں۔ ان غیر مسلم ملکوں کا ہر جگہ اپنا ایک دستور اور قانونی نظام ہے ۔ یہ دستور اور قانون کسی چیز کو جائز (lawful) اور کسی چیز کو ناجائز (unlawful) قرار دیتا ہے ۔ جب بھی کوئی مسلمان کسی ایسے ملک میں داخل ہوتا ہے تو اپنے آپ ہی وہ اس ملک کے قانونی نظام کے تحت آجاتا ہے ۔ ایسے مسلمان اور ایسے ملک کے درمیان اپنے آپ ایک خاموش معاہدہ قائم ہو جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ مذکورہ مسلمان اس ملکی نظام کا مکمل طور پر لفظی اور معنوی پابند رہے گا۔ کسی بھی حال میں وہ اس کی کھلی یا چھپی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ ایسی حالت میں کسی غیر مسلم ملک میں بسنے والے مسلمان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے ۔ یا تو وہ مذکورہ ملک کے قانون کی مکمل پابندی کر کے وہاں رہے ، یا اگر اس کو اس سے اختلاف ہے تو خاموشی کے ساتھ ملک کو چھوڑ کر وہاں سے باہر چلا جائے ۔ تیسرا انتخاب (option) یعنی ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں مقیم رہنا ، یقینی طور پر ایک غیر اسلامی فعل ہے ۔ ایسا عمل سراسر ناجائز ہے ۔ جو لوگ اس قسم کا تیسرا انتخاب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page