اسلامک ایکٹوزم
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار کریں وہ اسلامی اصول کے مطابق مجرم ہیں۔ اور وہ بلاشبہ خدا کے یہاں سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔ ملکی نظام کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں اگر نظام سے ٹکراؤ پیش آئے تو وہ دفاع کا مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک مجرمانہ فعل ہوگا۔ ایسے موقع پر شریعت کا حکم یہ ہے کہ مسلمان ایک طرفہ واپسی کے ذریعہ ٹکراؤ کی حالت کو ختم کر دیں نہ کہ اس کو دفاع قرار دے کر نظام کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں۔ خلاصہ یہ کہ اسلامک ایکٹوزم صرف وہی ہے جو دعوت کی راہ سے اور دعوت کے اسلوب میں چلائی جائے۔ دعوت کے اسلوب میں کی جانے والی جد و جہد ہی کو اس دنیا میں اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ اس لیے صرف وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتی ہے۔ دوسرے اسلوب کی کوئی جد و جہد خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی، خواہ اس کا نام اسلامی اور قرآنی جد و جہد ہی کیوں نہ رکھ دیا گیا ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان کا مشن شہادت حق ہے۔ اور جو لوگ شہادت حق کے لیے اٹھیں انھیں کو خدا کی نصرت و حمایت ملے گی (22:78)۔ پھر جب خدا نے مسلمان کی فتح و نصرت کو دعوت و شہادت سے جوڑ دیا ہو تو کہیں اور سے ہم کس طرح اسے پاسکتے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کا مددگار ہوتا ہے جو اللہ کے راستہ پر چلیں اور اللہ کا مقرر کیا ہوا راستہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دعوت کے اصول پر جد و جہد۔ ایک قائم شدہ حکومت کے بارے میں اگر کسی کا احساس ہو کہ اس کا نظام اس کی پسند کے مطابق نہیں ہے، اور وہ پرامن دعوہ ورک بھی کرنا نہیں چاہتا تو ایسی حالت میں اس کے اوپر جہاد نہیں ہے بلکہ ہجرت ہے۔ اس کے لیے ہر گز جائز نہیں کہ وہ اپنی ناپسندیدگی کو عذر بنا کر مذکورہ نظام کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔ اس کے بجائے اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader