Urdu book · فکر اسلامی

مسلمان اور جدید تحدیات

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی تاریخ کے اس تجربہ کو نئے حالات میں دہرائیں جو بار بار اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ یعنی ہم موجودہ مسائل اور تحدیات کا مقابلہ اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ کریں۔ مسلمان اپنی طویل تاریخ میں ہمیشہ دعوت کی طاقت سے فتح یاب ہوئے ہیں، اور آج بھی یقینی طور پر اسی کے ذریعہ وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ دعوت کی تسخیرت کا راز اس کی نفع بخشی کی صفت ہے۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کے لیے نافع ہو، اس کو لوگوں کے درمیان قبولیت اور جماؤ ملے۔ اسلام سب سے بڑی نفع بخش چیز ہے۔ وہ انسان کی تلاش حق کا جواب ہے، وہ انسان کو سچا نظریہ حیات دیتا ہے۔ وہ انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے، وہ انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ وہ انسان کی اس شاہراہ کی دریافت کراتا ہے جس پر چل کر وہ دنیا سے لے کر آخرت تک محفوظ سفر طے کر سکے۔ بلاشبہ اس سے زیادہ نفع بخش اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔ اس لیے اس سے زیادہ قابل قبول چیز بھی انسان کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اسلام کا یہ تسخیری پہلو ایک معلوم اور مشہور حقیقت ہے۔ اگر آپ کے پاس زیادہ تحقیقی مطالعہ کا موقع نہ ہو تو آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ آپ ریاض سے نکلنے والے عرب ہفت روزہ الدعوہ کو یا مکہ سے نکلنے والے اخبار العالم الاسلامی کو پڑھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے تقریباً ہر شمارہ میں اسلام کی دعوتی تسخیر کی خبریں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اسی مہینہ میں الدعوہ (ریاض) کے شمارہ 12 اگست 1993ء میں ایک خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے کہ 900 شخص يعتنقون الاسلام۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چند مہینے میں جنوبی افریقہ میں تقریباً نو سو آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان میں سے چار مسیحی پادری ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page