مسلمان اور جدید تحدیات
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح اسی مہینہ میں العالم اسلامی (مکہ) کے شمارہ 22-16 اگست 1993 کے انگریزی حصہ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کی سرخی یہ ہے: 653 Embrace Islam in UAE اس سرخی کے تحت چھپنے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ 1413ھ کے ایک سال کے دوران صرف عرب امارات میں بیرونی ملکوں کے جو لوگ دین اسلام میں داخل ہوئے ہیں ان کی مجموعی تعداد 653 ہے۔ یہ دونوں خبریں صرف بطور مثال نقل کی گئی ہیں۔ ورنہ اس طرح کے دعوتی واقعات ہر روز دنیا کے ہر حصہ میں تقریباً تسلسل کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ اسلامی دعوت کی اہمیت نظری طور پر بھی مسلّم ہے اور عملی تجربہ میں بھی اس کی افادیت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ دعوت کو باقاعدہ ملی پروگرام قرار دے کر اس کے لیے منظم اور منصوبہ بند عمل شروع کر دیا جائے۔ دعوتی طریق کار کی کامیابی جزئی طور پر آج بھی ظاہر ہو رہی ہے، جب کہ ابھی دعوت کا کام منظم طور پر اور قومی فیصلہ کے تحت انجام نہیں دیا جا رہا ہے۔ پچھلے سو سال میں بے شمار سیاسی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر اس سے ابھی تک کوئی حقیقی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ جب کہ اسی مدت میں دعوت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کر کے انہیں اسلام کے دائرہ میں داخل کیا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ وہ واحد غیر محرف مذہب ہے۔ ہر قسم کی علمی صداقتیں اس کے حق میں جمع ہو چکی ہیں۔ ان چیزوں نے اسلام کو اپنی ذات میں ایک موثر طاقت بنا دیا ہے۔ چنانچہ ہر ملک میں اور دنیا کے ہر علاقہ میں لوگ برابر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader