Urdu book · فکر اسلامی

آخری بات

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری بات قرآن سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے مسائل و مشکلات کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ان قوموں کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام کریں جن کی طرف سے یہ مسائل اور مشکلات پیش آرہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تحدیات اقوام کا مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کارگر تدبیر دعوت اقوام ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی حسب ذیل آیت ایک فیصلہ کن رہنما کی حیثیت رکھتی ہے: يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (5:67)۔ یعنی، اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچادو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ قرآن کی یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ امت محمدی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ جب وہ قوموں کے اوپر دعوت کا کام کرے تو وہ ان کے مظالم سے پوری طرح محفوظ رہے۔ جب قرآن میں یہ واضح رہنمائی موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ عصر حاضر کے مسلمان مشکلات و مسائل کا شکار ہونے کے باوجود، دعوت الی اللہ کی منصوص تدبیر کے لیے متحرک نہ ہو سکے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے صبر نہ کر سکنا۔ صبر دعوت الی اللہ کی واحد لازمی قیمت ہے۔ جو لوگ صبر کی قیمت ادا نہ کر سکیں وہ دعوت الی اللہ کا کام بھی نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ (14:12)۔ یعنی، اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے اس پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page