فکر اسلامی
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات پیغمبروں نے اپنی مخاطب قوموں سے اس وقت کہی جب کی ان کی قوم ان کی مخالف ہو گئی اور ان پر زیادتیان کرنے لگی۔ یہ زیادتی اور اذیت دیگر اقوام کی طرف سے ہمیشہ داعی حق کو پیش آتی ہے۔ مگر داعی کو ان تمام زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے تا کہ اس کی مثبت نفسیات بھنگ نہ ہونے پائے، تا کہ وہ مخاطبین کی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے ان کے اوپر دعوت کے عمل کو جاری رکھے۔ اس آیت میں توکل سے مراد اللہ کے اس بتائے ہوئے طریقہ پر یقین کرنا ہے۔ یعنی داعی پوری طرح اس بات پر متوکل ہو جائے کہ وہ مخاطبین کے ظلم کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی نہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا جو کام ان کے اوپر انجام دے گا۔ وہ پیغام الہی کی پیغام رسانی کے ساتھ اس کے قومی مسائل کا بھی یقینی حل بن جائے گا۔ آج اہل اسلام کو اسی توکل علی اللہ کا ثبوت دینا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں اس توکل کا ثبوت دے دیں تو اس کے بعد ان کے تمام مسائل اس طرح حل ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یہ مقالہ الملتقٰی الاسلامی الاول لدول آسیا (کولمبو) میں 27 اگست 1993ء کو پڑھا گیا۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کی وزارة الاوقاف والشئون الاسلامیہ کے تحت کی گئی۔ ایک شرعی مسئلہ یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس وقت ساری دنیا میں پناہ گزینوں کی جو تعداد ہے اس میں تقریباً 95 فیصد پناہ گزیں مسلمان ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک جنگ جو (militant) مذہب ہے جو اپنے پیروؤں کو اینٹی ایسٹبلشمنٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader