تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ جہاں پائیں اس کو قتل کردیں۔ فتویٰ کا یہ تصور احمقانہ حد تک بے بنیاد ہے۔ مگر خود مسلم نما نندوں کی غلط نمائندگی سے یہ بات ساری دنیا میں مشہور ہوگئی۔ موجودہ زمانہ میں جن چیزوں نے اسلام کو لوگوں کی نظر میں دین رحمت کے بجائے دین تشدد بنا دیا ہے، ان میں بلا شبہ سرفہرست یہی واقعہ ہے۔ فتویٰ کا دائرہ نہایت محدود دائرہ ہے۔ فتویٰ شریعت کے جزئی یا غیر منصوص امور میں صرف ایک عالم کی رائے (opinion) کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں اس چیز کا قائم مقام نہیں ہے جس کو قضا کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا جرم جس کی سزا شریعت میں موت مقرر کی گئی ہو، اس کا تعلق یقینی طور پر عدالت سے ہے، نہ کہ فتویٰ سے۔ ایسے معاملہ میں فتویٰ جاری کرنا ایک مجرمانہ جسارت کے ہم معنی ہے۔ جب کسی شخص سے ایک ایسا جرم سرزد ہو جو سزائے موت کو مستلزم ہو تو اس کا معاملہ باقاعدہ اور با اختیار عدالت میں لایا جائے گا۔ وہاں گواہیاں پیش ہوں گی۔ شخص ماخوذ کو اپنی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس قسم کی تمام ضروری شرائط کو پورا کرنے کے بعد صرف با اختیار عدالت کو یہ حق ہے کہ دلائل و شواہد کی روشنی میں وہ جو فیصلہ مناسب سمجھے اس کا اعلان کرے۔ ایران کے آیت اللہ روح اللہ خمینی نے جب اس قسم کا فتویٰ جاری کیا تو تمام دنیا کے علما پر فرض تھا کہ اس کی تردید میں وہ متفقہ بیان شائع کریں۔ وہ اعلان عام کے ذریعہ لوگوں کو بتائیں کہ سزائے موت کا تعلق فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ قضا (عدالت) سے ہے۔ اسلام میں ہرگز اس کی گنجائش نہیں کہ ایک شخص محض اپنے فتوے کے ذریعہ کسی کے قتل کا حکم جاری کر دے۔ کوئی مجرم قتل کی سزا کا مستوجب صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ اسلامی عدالت میں تمام ضروری کارروائی کے بعد اس کا جرم پوری طرح ثابت ہو جائے۔ اور ایک با اختیار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader