Urdu book · فکر اسلامی

ایک شرعی مسئلہ

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

بناتا ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے حکمرانوں کے باغی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد حکمرانوں کی طرف سے ان پر تشدد (persecution) ہوتا ہے تو وہ بھاگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لیتے ہیں۔ اسلام کی اس تعلیم نے خود مسلمانوں کو بھی مصیبت میں ڈال دیا ہے اور وہ دنیا والوں کے لیے بھی مصیبت بن گئے ہیں۔ یہ بات جو مغربی پروفیسر نے کہی وہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بارے میں عام تاثر ہے۔ یہ مسلمانوں کے اوپر کوئی فرضی الزام بھی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علمی طور پر موجودہ مسلمان یہی کام کر رہے ہیں۔ ہر جگہ وہ اینٹی یسٹیبلشمنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ وہ اپنے ملک کی حکومتوں سے ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکل رہا ہے جس کا صرف ایک جز عالمی پناہ گزینوں میں مسلمانوں کی مذکورہ کثرت ہے۔ عام حالت میں یہ صرف مسلمانوں کا یا ان کے کچھ لیڈروں کا ایک گروہی واقعہ ہوتا۔ جو کچھ غلط فہمی ہوتی وہ صرف کچھ مسلمانوں کے بارے میں ہوتی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسلم عاملین (activists) اپنی یہ جنگ جو یا نہ مہم اسلام یا اسلامی جہاد کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر مسلمانوں کا یہ عمل اسلام کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے اس عمل سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی متشددانہ سیاسی سرگرمیوں میں سارے مسلمان شامل نہیں ہیں۔ ان کا ایک طبقہ ہی عملی طور پر ان میں ملوث ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ موجودہ مسلم دنیا کے علما اور دانشوران افعال کی مذمت نہیں کرتے۔ اس طرح خود شرعی اصول کے مطابق، تمام مسلمان براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلم جنگ جوئی کے موید بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ برائی پر چپ رہنا برائی کی تائید کرنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page