ایک شرعی مسئلہ
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
ان حالات میں یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ مذکورہ قسم کی متشددانہ تحریکیں لوگوں کی نظر میں اسلام کی نمائندہ تحریکیں قرار پائیں۔ لوگ یہ رائے قائم کریں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب عمل ہے۔ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ وہ دوسرے مذاہب یا نظاموں کے ساتھ موافق کر کے رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس مقالہ میں مجھے اسی مسئلہ کا علمی جائزہ لینا ہے۔ اسلام بنیادی طور پر ایک امن پسند مذہب ہے۔ اسی لیے پیغمبرِ اسلام کو رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين (21:107) کہا گیا ہے۔ یعنی، سارے عالم کے لیے رحمت۔ گویا کہ پیغمبرِ اسلام پیغمبر رحمت ہیں، نہ کہ پیغمبر حرب۔ آپ کا طریقہ عدم تشدد (non-violence) ہے، نہ کہ تشدد (violence)۔ تاہم موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں اختلاف اور نزاع کا پیش آنا لازمی ہے۔ ایک فرد اور دوسرے فرد، اسی طرح ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ۔ اس کا جواب صبر ہے۔ قرآن میں بہت زیادہ صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ اگر (صبر کے) براہ راست احکام کے ساتھ بالواسطہ احکام کو شامل کر لیا جائے تو پورا قرآن کتاب صبر نظر آئے گا۔ صبر واعراض کا مطلب یہ ہے کہ ناخوشگوار باتیں پیش آنے کی صورت میں ردِ عمل کا انداز نہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے تاکہ جو شکایتی بات پیدا ہوئی ہے وہ اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے۔ اس کے باوجود ایسی حالتیں پیش آسکتی ہیں جب کہ بات بڑھ جائے۔ ابتدائی شکایت باقاعدہ نزاع کی صورت اختیار کرنے لگے۔ اس وقت اہلِ اسلام کو کیا کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دی گئی : اَلسُّلحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی، صلح کر لینا بہتر ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader