فکر اسلامی
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا ہے کہ الحرب خیر (جنگ بہتر ہے)، مگر یہ فرمایا کہ الصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزاعی امور میں اسلام کی اسپرٹ صلح ہے، نہ کہ حرب۔ اس طرح عدم نزاع کو اسلام نے ایک بنیادی اجتماعی اصول کی حیثیت دے دی ہے۔ خواہ فرد اور فرد کے درمیان کا معاملہ ہو یا گروہ اور گروہ کے درمیان کا معاملہ، ہر موقع پر اصلاً اس اصول کو ملحوظ رکھنا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اور اگر بالفرض ٹکراؤ پیش آ جائے تو پہلی فرصت میں صلح کا طریقہ اختیار کر کے نزاع کا خاتمہ کر دیا جائے۔ کیوں کہ ٹکراؤ ہمیشہ مسئلہ کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں مسئلہ کا حل نہیں۔ مسلم حکمران کا معاملہ اجتماعی نزاعات کی سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے جو عوام اور حکمراں کے درمیان پیش آتی ہے۔ اس کو ایک لفظ میں سیاسی نزاع بھی کہا جا سکتا ہے۔ انسانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ خود خواہ کیسے ہی ہوں، مگر حکمران طبقہ کو وہ ہمیشہ آئیڈیل کے معیار سے ناپتے ہیں، جب کہ آئیڈیل کا حصول اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا گروہ حکمران بنتا ہے، فوراً ہی لوگوں کو اس سے شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھ کر کبھی ٹکراؤ اور جنگ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں احادیث میں نہایت تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ ہدایات تمام کی تمام عملی معقولیت (practical wisdom) پر مبنی ہیں۔ یعنی ناممکن کی چٹان سے سر ٹکرانے کے بجائے ممکن کے میدان میں کوششوں کو موڑ دینا۔ یہ ہدایات خاص طور پر حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ حدیثیں بگڑے ہوئے حکمرانوں کے بارے میں شرعی حکم کو بتاتی ہیں۔ وہ حکم یہ ہے کہ ایسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader