مسلم حکمران کا معاملہ
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمرانوں سے ہرگز سیاسی ٹکراؤ نہ کیا جائے۔ بلکہ ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنے آپ کو غیر سیاسی دائرہ میں مصروف رکھا جائے۔ ان روایات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرمادیاتھا کہ میرے بعد تم اپنے حکمرانوں میں بہت بگاڑ دیکھو گے۔ لیکن بگاڑ اور ناانصافی کے باوجود تم ان کے خلاف خروج ( بغاوت ) نہ کرنا۔ تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا۔ بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہو کر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ واضح اور قطعی ہدایت حدیث کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں کے نظام حکومت میں بہت زیادہ بگاڑ آ گیا۔ مگر مسلم علما نے ان حکمرانوں کے خاتمہ کے لیے کبھی کوئی مخالفانہ سیاسی مہم شروع نہیں کی ۔ بنوامیہ، بنو عباس اور دوسرے حکمرانوں میں خود آپس میں تو مختلف صورتوں میں ٹکراؤ پیش آیا۔ مگر صحابہ، تابعین، تبع تابعین ، فقہا اور علما نے کبھی اصلاح سیاست کا نام لے کر ان کو سیاست سے بے دخل کرنے کی تحریک نہیں چلائی۔ یہ بات نہ صرف عملی طور پر ہوئی ۔ بلکہ نظری طور پر تمام علما نے اس پر اتفاق رائے کر لیا۔ تمام علما اور فقہا نے متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیا کہ ایک مسلم حکمراں جس کی حکومت عملاً قائم ہو گئی ہو، خواہ بظاہر وہ ظالم اور فاسق کیوں نہ ہو، اس کے خلاف خروج ( بغاوت ) کرنا جائز نہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں صرف ایک حوالہ دوں گا۔ امام نووی کچھ احادیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ارباب اقتدار سے ان کے اقتدار کے معاملہ میں نزاع نہ کرو اور نہ ہی ان کے اوپر اعتراض کرو، الا یہ کہ تم ان میں کوئی ایسا ثابت شدہ منکر فعل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader