Urdu book · فکر اسلامی

مسلم حکمران کا معاملہ

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھو جس کو تم اسلام کے بنیادی امور میں سے جانتے ہو۔ پس جب تم ایسی چیز دیکھو تو تم ان پر نکیر ( قولی نصیحت ) کرو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو حق بات کہو۔ باقی ان کے خلاف خروج (عملی بغاوت) " اور ان سے جنگ تو وہ اجماع مسلمین کے تحت حرام ہے، خواہ یہ حکمراں فاسق اور ظالم کیوں نہ ہوں ( وَاَمَّا الْخُرُوْجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِيْنَ وَاِنْ كَانُوْا فَسَقَةً ظَالِمِينَ ) اور یہ جو مفہوم میں نے بیان کیا اس کی تائید میں کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ حکمراں فسق کی بنا پر معزول نہیں ہوتا۔ اور فسق کی بنا پر حکمراں کے معزول ہو جانے کی بات جو فقہ کی کتابوں میں ہمارے بعض اصحاب نیز معتزلہ کی طرف منسوب کرکے بیان ہوئی ہے وہ غلط ہے اور اجماع کے خلاف ہے۔ علما نے ایسے حکمراں کے معزول نہ ہونے اور اس کے خلاف خروج کے حرام ہونے کا سبب یہ بتایا ہے کہ اس کے نتیجہ میں بدامنی اور خوں ریزی اور آپس کے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ پس اس کی معزولی ( یا اس کے خلاف خروج ) کی صورت میں اس سے زیادہ بگاڑ اور فساد برپا ہوگا جتنا کہ اس کے برسر اقتدار رہنے کی صورت میں تھا۔ “ (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد 12، صفحہ 229)۔ اس شرعی اصول پر جائیے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملکوں میں اٹھنے والی وہ تمام تحریکیں باطل تحریکیں تھیں جو موجودہ صدی میں مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اٹھیں۔ بظاہر ان کا نعرہ تھا کہ وہ فاسق حاکموں کو ہٹانا چاہتے ہیں تا کہ شرعی قانون کا نظام قائم کر سکیں۔ مگر حقیقتاً یہ شرعی قانون کی نفی تھی۔ کیوں کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایک مسلم حکمران جس کی حکومت عملاً قائم ہو چکی ہو، اس کے خلاف کسی بھی حال میں خروج (بغاوت) نہ کرو۔ اس قسم کی تمام تحریکیں، مذکورہ شرعی حکومت کے مطابق، ناجائز تحریکیں تھیں۔ کیونکہ وہ قائم شدہ مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اٹھائی گئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page