Urdu book · فکر اسلامی

مسلم حکمران کا معاملہ

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

ان پر شور تحریکوں سے کوئی مثبت اسلامی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ بے پناہ قربانیوں کے باوجود وہ اپنے ملکوں کو تباہی اور بربادی کے سوا کوئی اور تحفہ نہ دے سکیں۔ خدا کی اس دنیا میں کسی غیر اسلامی عمل سے کبھی کوئی اسلامی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔ مسلمانوں کو سیاسی نزاع سے روکنے کا مطلب ان کو بے عملی کی طرف لے جانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ان کو بے فائدہ عمل کے میدان سے نکال کر مفید عمل کے میدان میں سرگرم کیا جائے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں بے مسائل زندگی کبھی کسی کو ملنے والی نہیں۔ اگر آپ سیاسی مسئلہ کو ختم کرنے کے نام پر جنگ چھیڑیں تو جب آپ سیاسی مسئلہ کو ختم کر چکے ہوں گے ، اس کے بعد پھر کوئی نیا مسئلہ آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ برصغیر ہند کے علمائے نے انگریزی مسئلہ کو ختم کرنے کے نام پر قربانیاں دیں۔ مگر جب انگریزی مسئلہ ختم ہو گیا تو معلوم ہوا کہ اکثریتی بالادستی کی صورت میں ایک نیا مسئلہ یہاں ان کے لیے موجود ہے۔ مصر میں اخوانیوں نے شاہ فاروق کو سیاسی مسئلہ سمجھ کر ان کے خلاف بغاو ت کی۔ مگر شاہ فاروق کے خاتمہ کے بعد دوبارہ فوجی ڈکٹیٹر شپ کا شدید تر مسئلہ ان کے سامنے موجود تھا۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے ایوب اور بھٹو کو مسئلہ سمجھ کر ان کے خلاف ہنگامہ خیز مہم چلائی۔ مگر ایوب اور بھٹو کا خاتمہ کسی بھی درجہ میں مسائل کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بن سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں مسائل ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ایسی حالت میں مسائل سے ٹکرانا صرف ایک نادانی کا فعل ہے۔ موجودہ دنیا میں عمل کا صحیح طریقہ صرف ایک ہے ۔ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page