فکر اسلامی
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی اسلام کا حکم ہے، اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔ مسائل رخِی جدوجہد موجودہ دنیا میں کبھی کسی مفید نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔ اس قسم کی جدوجہد کا واحد انجام صرف یہ ہے کہ ایک مسئلہ کو ختم کرنے کے نام پر ٹکراؤ کیا جائے، اور جب وہ مسئلہ ختم ہو تو اس کے بعد نئے پیش آمدہ مسئلہ کے نام پر دوبارہ احتجاج یا ٹکراؤ کی نئی مہم شروع کر دی جائے۔ اور بے فائدہ قربانیوں کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنا حالت موجودہ پر ٹھہراؤ نہیں ہے۔ یہ دراصل ناممکن میدان سے ہٹ کر ممکن میدان میں اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔ اور ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ ممکن میدان میں اپنی طاقت صرف کریں وہ آخر کار ممکن کو بھی پالیتے ہیں اور نا ممکن کو بھی۔ غیر مسلم حکمران کا معاملہ جہاں تک مسلم حکمران کا معاملہ ہے، اس کے خلاف خروج کی حرمت صریح احادیث سے ثابت ہے۔ اسی لیے تمام علمائے نے اس پر اتفاق کیا ہے، جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حکمراں اگر غیر مسلم ہو تو اس کے بارے میں شریعت اسلامی کا حکم کیا ہے۔ یہاں شریعت کا اصول قیاس ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اصول فقہ میں یہ بات مسلم ہے کہ شرعی احکام کے ماخذ چار ہیں— قرآن، سنت، اجماع اور قیاس، زیرِ بحث معاملہ میں قیاس کے اصول میں ہمارے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔ فقہ کی تمام اہم کتابوں میں قیاس پر بحث کی گئی ہے۔ شرعی قیاس کیا ہے، اس کو اصول فقہ کی کسی بھی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فنی اصطلاحات سے قطع نظر، سادہ طور پر قیاس کی تعریف یہ ہوگی کہ وہ اشتراکِ علت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader