Urdu book · فکر اسلامی

غیر مسلم حکمران کا معاملہ

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیاد پر کسی چیز کے بارے میں دوسری چیز کے مماثل حکم ثابت کرنے کا نام ہے ( اِثْبَاتِ مِثْلِ حُكْمِ مَعْلُومٍ فِي مَعْلُومٍ آخَرَ لَا شْتِرَاكِهِمَا فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ ) منہاج الوصول للبیضاوی مع شرحہ نہایۃ السول ، بیروت ، 1999 ، صفحہ 303۔ بیضاوی کے مذکورہ الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر صلاح الدین زیدان نے لکھا ہے کہ: جب حکم کی علت میں مماثلت پائی جائے تو نتیجہ حکم میں بھی مماثلت ہوگی ( اَلتَّمَاثُلُ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ يُؤَدِّى إِلَى التَّمَاثُلِ فِي الْحُكْمِ ) الدكتور صلاح الدین زیدان ، حجية القياس ، صفحہ 23۔ مثال کے طور پر شراب کے بارے میں یہ حکم ثابت ہے کہ وہ حرام ہے لیکن کھجور سے تیار کی گئی نبیذ کا حکم صراحۃً قرآن یا حدیث میں موجود نہیں۔ مگر فقہانے اس کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ نبیذ اور شراب میں ایک قدرِ مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے دونوں کا مسکر یعنی نشہ آور ہونا۔ اب چونکہ اس قدرِ مشترک کی بنا پر شریعت نے شراب کو حرام ٹھہرایا ہے لہٰذا نبیذ اور کھانے پینے کی وہ ساری چیزیں جو مسکر ( نشہ آور ) ہیں ان کا حکم بھی وہی ہوگا جو شراب کا حکم ہے۔ اس اصولِ قیاس کو سامنے رکھ کر مذکورہ معاملہ پر غور کیجئے تو جو بات سامنے آئے گی، وہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے صراحت کے ساتھ غیر عادل مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج ( بغاوت ) سے منع فرمایا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس قسم کا اقدام زیادہ بڑا نقصان ( بدامنی اور جان و مال کی تباہی ) پیدا کرے گا۔ معلوم ہوا کہ اس ممانعت کی اصل علت شدید تر برائی کا پیدا ہونا ہے۔ یہ شدید تر برائی اس وقت بھی پوری طرح ظہور میں آئے گی جب کہ حکمراں غیر مسلم ہو۔ گو یا دونوں جگہ علت کا اشتراک پایا جا رہا ہے۔ اور جب علت مشترک ہے تو شرعی اصول کے مطابق حکم بھی مشترک ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page