غیر مسلم حکمران کا معاملہ
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت میں جس طرح غیر عادل مسلم حکمران کے خلاف بغاوت نا جائز ہے اسی طرح غیر مسلم حکمران کے خلاف بھی بغاوت نا جائز ہے خواہ وہ لوگوں کو غیر عادل کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خاص مسئلہ میں مسلم حکمران اور غیر مسلم حکمران کا فرق محض اضافی ہے۔ کیونکہ حکمران کے خلاف خروج کی ممانعت اس لیے نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ یہ ممانعت صرف اس لیے ہے کہ اس قسم کا فعل زیادہ بڑا اثر پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسا اقدام عملی طور پر الٹے نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہوگا۔ اٹھنے والا اپنے خیال کے مطابق تو ظلم کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے عظیم تر ظلم ظہور میں آئے گا۔ ایسا ہونا بالکل یقینی ہے۔ کیوں کہ حکمران کسی معاشرے کا وہ عنصر ہے جس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں۔ جب اس کے وجود کو چیلنج کیا جائے گا تو لازماً وہ اپنے وجود کی حفاظت کے لیے اپنی ان طاقتوں کو استعمال کرے گا۔ اس کے بعد تشدد، خوں ریزی، اموال کی تباہی، امن و امان کا غارت ہو جانا جیسے یقینی نتائج رونما ہوں گے۔ چھوٹی برائی کو دور کرنے کی کوشش میں زیادہ بڑی برائی پیدا ہو جائے گی۔ گویا یہاں حکم کی جو علت ہے وہ حکمران کا مسلم ہونا نہیں ہے بلکہ حکمران کا اس پوزیشن میں ہونا ہے کہ وہ خروج کا عمل پیش آنے کے بعد پورے معاشرے کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گا۔ سیاسی خروج کی حرمت کا سبب حاکم کا مسلمان ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل سبب ترتب فتنہ ہے۔ اور قیاس شرعی کے مطابق، جب علت مشترکہ ہے تو حکم بھی مشترک ہو جائے گا۔ یعنی غیر مسلم حکمران کے خلاف خروج بھی اسی طرح نا جائز قرار پائے گا جس طرح مسلم حکمران کے خلاف خروج نا جائز ہے، کیوں کہ باعتبار انجام دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader