غیر مسلم حکمران کا معاملہ
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حکمراں کے خلاف خروج اس وقت تک جائز نہیں جب تک اقامت صلاۃ میں وہ کوئی رکاوٹ نہ ڈال رہے ہوں۔ اس حدیث میں "صلاۃ" کی اجازت کا ذکر دراصل مذہبی آزادی کی علامت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کو جب تک عبادت اور قول وعمل کی آزادی حاصل ہے، ان کو اپنے حکمراں کے خلاف سیاسی معزولی کی تحریک چلانا جائز نہیں، خواہ حکمراں مسلم ہو یا غیر مسلم۔ موجودہ زمانہ میں تمام غیر مسلم حکومتوں میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے سوا وہ ہر مذہبی سرگرمی کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ ایسی حالت میں ان ملکوں میں سیاسی حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلانا سراسر ناجائز فعل ہے۔ اس قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی، خواہ وہ اسلام کے نام پر کی جائے، یقینی طور پر وہ غیر اسلامی قرار پائے گی۔ مذکورہ احادیث اور شرعی حکم کے مطالعہ سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک حکمراں کے اندر اگر غلطی یا نا انصافی دکھائی دے تو اصلاً جس چیز کا جواز ہو گا وہ قولی نکیر ہے۔ یعنی لفظی تنقید کی صورت میں اظہار رائے۔ اور وہ بھی عوامی تقریر کی صورت میں نہیں بلکہ تنہائی کی ملاقات میں، جیسا کہ بزرگ صحابی عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ اگر تم کو ضرور ہی کچھ کہنا ہو تو ایسی مجلس میں کہو جس میں صرف تم ہو اور وہ (فَإِنْ كُنْتَ وَلَا بُدَّ فَاعِلًا، فَفِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ) سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 746۔ موجودہ زمانہ میں کئی ایسے غیر مسلم ملک ہیں جن کے بارے میں مسلم پریس روزانہ ظلم و زیادتی کی داستان سنا تار رہتا ہے۔ یہ طریقہ شریعت کے مطابق تطفیف ہے، اور تطفیف کو قرآن میں نہایت برا فعل بتایا گیا ہے (83:1)۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان غیر مسلم ملکوں میں ظلم و زیادتی کے واقعات کب شروع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader