تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
قاضی اس معاملہ میں اپنے فیصلہ کا اعلان کر دے۔ مگر علمائے یا تو مذکورہ فتوے کی تائید کی یا اس کے بارے میں وہ خاموش رہے۔ اور یہ دونوں فعل یکساں طور پر شریعت کے خلاف تھا۔ برائی کی حمایت اگر براہ راست طور پر اس کی تائید ہے تو اس کے علم کے باوجود اس پر چپ رہنا بالواسطہ طور پر اس کی تائید۔ موجودہ زمانہ کے مسائل میں ایک قسم ان مسائل کی ہے جو صرف زمانہ کے حالات سے متاثر ہو کر پیدا ہوئے اور بعد کو وہ اسلام کا حصہ سمجھ لیے گئے۔ حالاں کہ ان کا اصل اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ حقیقتاً زمانی تاثر کی پیداوار تھے نہ کہ اسلامی تعلیمات کی پیداوار۔ انھیں میں سے ایک مسئلہ قومیت (nationality) کا مسئلہ ہے۔ اگر چہ عملی طور پر یہ صورتِ حال ہے کہ ہر مسلمان جب وہ پاسپورٹ بنواتا ہے تو اس کے فارم پر قومیت کے خانہ میں وہ اپنے آپ کو انڈین (یا جرمن یا فرینچ یا امریکن) لکھتا ہے۔ اس میں کسی بھی طبقہ کے مسلمان کا کوئی استثنا نہیں۔ مگر ذہنی طور پر یہ چیز ابھی تک اس کے شعور کا حصہ نہ بن سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان (بشمول انڈیا) اس تضاد کا شکار ہیں جس کو ایک مصری نژاد امریکن نے تشخیص کا بحران (crisis of identity) سے تعبیر کیا ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں (سیاسی ضرورت کے تحت، نہ کہ شرعی تقاضے کے تحت) ساری مسلم دنیا میں ایسی تحریکیں اٹھیں جنھوں نے مسلمانوں کو یہ ذہن دیا کہ اسلام ایک عالمی قومیت ہے، اور مسلمان اس عالمی قومیت کے بین الاقوامی شہری ہیں۔ پان اسلام ازم، خلافت تحریک، عالمی حکومتِ الہیہ، خدام کعبہ، الاخوان المسلمون تحریک پاکستان، وغیرہ، سب نے کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمانوں کے اندر اسی قسم کا ذہن بنایا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ذہن آج شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی ہے۔ مگر یہ فکر واضح طور پر جدید تصور قومیت سے ٹکراتا ہے۔ جدید دور میں قومیت کا تعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader