فکر اسلامی
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوۓ۔ جب آپ اس اعتبار سے جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ مسلمانوں کے سیاسی جہاد کے بعد کے واقعات ہیں، نہ کہ پہلے کے واقعات۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کو پوری طرح مذہبی آزادی حاصل تھی۔ وہ امن کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے تھے۔ مگر جب وہاں جہاد کے نام پر ”گن کلچر“ کو فروغ دیا گیا تو اس کے بعد وہاں کے حکمرانوں نے بھی تشدد کا جواب تشدد سے دینا شروع کیا۔ ایسی حالت میں ان مظالم کی اصل ذمہ داری ان انتہا پسند مسلم لیڈروں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی مخالفانہ کارروائیوں سے اس کا سبب بنے۔ حدیث میں ہے کہ اَلْفِتْنَةُ نَائِمَةٌ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ أَيْقَظَهَا (كنز العمال، حديث نمبر 30891)۔ فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو اس کو جگائے۔ اس حدیث کے مطابق ، اصل مجرم موقظ فتنہ ہے، نہ کہ صاحب فتنہ۔ ایک شرعی اصول قرآن میں حکم دیا گیا ہے: اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگ پکارتے ہیں تم ان چیزوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ لوگ اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو مزین کر دیا ہے (6:108)۔ اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے عمل کو نتیجہ رخی (result-oriented) عمل ہونا چاہیے۔ ہر اقدام سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اگر نتیجہ غیر مطلوب نکلنے والا ہو تو اقدام سے پرہیز کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو عمل الٹا نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہو، وہ عمل اسلام میں جائز نہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیسے کوئی شخص اپنے باپ کو گالی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader