فکر اسلامی
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
دے گا، آپ نے فرمایا کہ تم کسی شخص کے باپ کو گالی دو گے پھر وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ تم کسی کی ماں کو گالی دو گے پھر وہ تمہاری ماں کو گالی دے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5973)۔ اسی بنا پر فقہ میں ایک مستقل مسئلہ بنا ہے جس کو تَرْكُ المَصْلَحَةِ لِمَفْسَدَةٍ أَرْجَحُ مِنْهَا کہا جاتا ہے۔ یعنی، ایک بظاہر مطلوب کام کو اس لیے چھوڑ دینا کہ اس کے کرنے سے زیادہ بڑا بگڑا پیدا ہوگا (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 164)۔ اس شرعی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے وہ تمام اقدامات غیر اسلامی قرار پاتے ہیں جن کو جہاد کے نام پر شروع کیا گیا۔ کیونکہ ان اقدامات کا نتیجہ زبردست تباہی کی صورت میں نکلا۔ اقدام جہاد سے پہلے مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی ان سے کھویا گیا اور مزید کوئی چیز انھیں حاصل نہ ہوسکی۔ ایک اعتراض مذکورہ بات کے سلسلہ میں اکثر مسلم دانشور یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بات جو آپ کہہ رہے ہیں، یہ تو مسیحی نقطہ نظر ہے جو انفعالیت پر قائم ہے۔ اسلام تو ایک انقلابی دین ہے جو فعالیت میں یقین رکھتا ہے۔ مگر یہ کچھ افراد کی محض ذاتی ریزننگ ہے۔ ہم نے جو بات کہی ہے وہ قرآن وحدیث کے حوالے سے کہی ہے۔ وہ مکمل طور پر شرعی نصوص پر مبنی ہے۔ جب کہ معترض حضرات کی بات تمام تر ذاتی ریزننگ پر مبنی ہے۔ اور کسی کی ذاتی ریزننگ شرعی نصوص کا بدل نہیں بن سکتی۔ مسلم دانشوروں میں ایک بالکل بے بنیاد خیال یہ پھیلا ہوا ہے کہ اسلام ایک ارتقا یافتہ مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب غیر ارتقا یافتہ مذاہب ہیں۔ حالانکہ یہ بات صریح اسلامی نصوص کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق ہر پیغمبر کو ایک ہی دین دیا گیا۔ اسلام اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader