Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے مذاہب میں غیر محرف اور محرف کا فرق ہے ، نہ کہ ارتقائی اور غیر ارتقائی کا۔ مثال کے طور پر مسلم خطبا اکثر حضرت مسیح کے اس قول کا استخفاف کرتے ہیں کہ پس جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو (متی ، 22:21)۔ حالانکہ یہ مخصوص حالات کے اعتبار سے ایک حکیمانہ ہدایت ہے اور وہ خود اسلام میں عین اسی طرح موجود ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے جس کو بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : اِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي اَثَرَةً وَاُمُورًا تُنْكِرُونَهَا۔ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: اَدُّوْا اِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی، میرے بعد تم لوگ (حکمرانوں میں ) خود غرضی اور منکر چیزیں دیکھیں گے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، پھر اس وقت کے لیے آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ان کو ان کا حق ادا کرو اور اللہ سے اپنا حق مانگو۔ ایک شبہ کا ازالہ مذکورہ شرعی اصول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت اہل اسلام کو قانع حال (status-quoist) بنا دینا چاہتی ہے۔ شریعت کے اس حکم کا مقصد دراصل نازک صورت حال میں اپنے عمل کے لیے نقطۂ آغاز (starting point) حاصل کرنا ہے۔ نزاعی صورت حال میں اگر رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ البتہ عملی طور پر ٹھہراؤ (status-quoism) کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں اہل اسلام سامنے کی چٹان سے ٹکراتے رہیں گے۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ نہ پاسکیں گے۔ اس لیے شریعت نے اہل اسلام کو مذکورہ حکم دیا۔ یعنی وہ حالات کے ناموافق پہلو پر صبر کریں تا کہ وہ حالات کے موافق پہلو کو استعمال (avail) کرسکیں۔ یہ قانون قدرت ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page