Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ ہر صورت حال میں آدمی کے لیے کچھ موافق پہلو اور کچھ ناموافق پہلو دونوں بیک وقت موجود ہوں۔ موافق پہلو کو استعمال کرنے کی واحد قیمت ناموافق پہلو کو برداشت کرنا ہے۔ مذکورہ شرعی حکم دراصل اسی قیمت کو ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔ زندگی کا سفر کبھی نقطہ اختتام سے شروع نہیں ہو سکتا۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہو گا، ابتدائی نقطہ سے شروع ہوگا۔ زندگی میں کامیاب سفر کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کو نقطہ آغاز مل جائے۔ صحیح نقطہ آغاز مل جانے کے بعد منزل پر پہنچنا اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نکلنا۔ تعبیر کا مسئلہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں یہ جائز نہیں کہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ان کے خلاف جنگ برپا کی جائے تو ایسا کیوں ہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمان اسی قسم کے سیاسی ہنگامے برپا کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے ان مسلم مفکرین پر ہے جنہوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ نشانہ دیا کہ وہ تمام مخالف طاقتوں سے لڑ کر ساری دنیا میں اسلام کا اقتدار قائم کریں۔ حدیث کے الفاظ میں، اسلامی دعوت کا نشانہ یہ تھا کہ قلب انسانی کو بدلا جائے (مسند احمد، حدیث نمبر 18374)۔ مگر اس تعبیر نے انتہائی غلط طور پر نظام سیاسی کی تبدیلی کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنا دیا۔ اور اس غلط تعبیر نے ایک ناجائز کام کو اسلام کا اعلی وارفح مطلوب قرار دے دیا۔ چنانچہ اب تمام لوگ ارباب اقتدار سے اپنا سر ٹکرا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ فکر انسانی میں کبھی ایسا بڑاڑ بھی آ سکتا ہے کہ لوگ سراسر ایک عبث کام کریں اور بطور خود یہ سمجھیں کہ وہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page