تعبیر کا مسئلہ
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
(18:103-104)۔ یہی موجودہ زمانہ میں ان نام نہاد انقلابی مسلمانوں کا حال ہے۔ نااہل رہنماؤں کی تزئین کے نتیجہ میں ان کا فکر اس طرح بگڑ گیا ہے کہ اب انھیں اسلام کا اصل دعوتی کام کمتر دکھائی دیتا ہے، اور وہ کام انھیں بڑا دکھائی دیتا ہے جس کو بطور خود انھوں نے اسلامی انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔ اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ موجودہ مسلم نسلوں کے ذہن کو درست کیا جائے۔ ان کے اندر انقلابی فکر کے بجائے اصلاحی فکر پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر سیاست رخی سوچ کی جگہ آخرت رخی سوچ لائی جائے۔ ان کو نام نہاد انقلابی فکر کے بجائے سچے ربانی فکر پر کھڑا کیا جائے۔ اسلام کی تعبیر موجودہ زمانہ میں تین طریقوں سے کی گئی ہے۔ یہ تینوں تعبیرات مختصر انداز میں حسب ذیل ہیں: 1۔ پیغمبر دنیا میں خلیفہ اللہ بن کر آئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ خدا کے باغیوں کو زیر کر کے خدا کی دنیا میں خدا کے قانون کی حکومت قائم کریں۔ 2۔ خدا نے پیغمبروں کو اس لیے بھیجا تا کہ وہ حیات انسانی کے بارے میں خدا کے منصوبہ سے لوگوں کو آگاہ کر دیں۔ یعنی یہ منصوبہ کہ موجودہ دنیا آزمائش گاہ ہے۔ کوئی شخص اس دنیا میں جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق وہ آئندہ آنے والی ابدی دنیا میں سزا یا انعام پائے گا۔ 3۔ تیسرا نقطہ نظر تطبیقی نقطہ نظر ہے۔ اس کے مطابق ، مذکورہ دونوں تعبیر میں صرف ترتیب کا فرق ہے۔ دوسرا نظریہ اسلامی دعوت کے آغاز کو بتاتا ہے اور پہلا نظریہ اسلامی دعوت کے اختتام کو بتا رہا ہے۔ مگر قرآن وسنت کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں سے صرف دوسرا نقطہ نظر صحیح ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader