علما کا قائدانہ کردار
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
علما کا قائدانہ کردار 1992ء میں لکھنؤ میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا انتظام اسٹوڈنٹس اسلامک ویلفیئر سوسائٹی نے کیا تھا۔ اس کا موضوع بحث تھا۔ علماء کا قائدانہ کردار۔ راقم الحروف نے منتظمین کی دعوت پر اس سیمینار میں شرکت کی۔ زیر نظر مقالہ اسی سیمینار کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یکم مارچ 1992ء کے اجلاس میں اس کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ اس مقالہ میں موجودہ زمانہ میں علماء کے قائدانہ کردار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کے تنقیدی جائزہ کے لیے شرعی نقطہ نظر یہ ہے کہ دو چیزوں کو بالکل ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے۔ ایک ہے لوگوں کی نیت اور ان کے ایمان و اخلاص کا معاملہ۔ دوسرا ہے اس تدبیر کار کا معاملہ جو متعلقہ اشخاص نے مسائل کے مقابلہ میں اختیار کیا۔ شریعت کے مطابق ، نیت یا ایمان و اخلاص کو بحث کا موضوع بنانا سراسر ناجائز ہے۔ مگر تدبیر کار کو زیر بحث لانا سراسر جائز۔ زیر نظر مقالہ میں اس تقسیم کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں نیت یا ایمان و اخلاص کو زیر بحث لائے بغیر صرف اس تدبیر کار کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے علما نے دور جدید میں اختیار کیا۔ زیر نظر جائزہ کا حاصل یہ ہے کہ علما نے جو تدبیر کار اختیار کی وہ زمانہ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہ تھی۔ اس لیے ان کی کوششیں اور ان کی قربانیاں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ تاہم یہ علما کی اجتہادی خطا تھی، اور جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، مومن کا اجتہاد اگر درست ہو تو اس کے لیے دو ثواب ہے، اور اگر وہ اپنے اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک ثواب ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2314)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader