Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مقالہ بظاہر تنقید ہے مگر حقیقتاً وہ تجویز ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ کے جائزہ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل متعین کیا جائے۔ تاکہ جو کام ماضی میں نہیں ہوا اس کو زیادہ صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ مستقبل میں انجام دیا جاسکے۔ قائدانہ کردار کی نوعیت پیغمبرانہ کردار جیسی نہیں ہے۔ پیغمبر ایک مستند نمونہ ہوتا ہے۔ اس کی صرف پیروی کی جاسکتی ہے۔ مگر علما کی حیثیت اس سے مختلف ہے۔ دونوں کے درمیان اس فرق کو ملحوظ رکھنا ہی مطالعہ کی صحت کا ضامن ہے۔ موجودہ زمانہ میں علما کا قائدانہ کردار — یہ وہ موضوع ہے جس کا مجھے زیر نظر مقالہ میں جائزہ لینا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے علما کے لیے کیا کردار مقرر کیا ہے تا کہ ہمیں ایک معیار مل جائے جس کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے علما کی سرگرمیوں کی قدر و قیمت متعین کی جاسکے۔ علما کا رول اسلام میں راقم الحروف کے نزدیک ، علما کے رول کے سلسلہ میں قرآن کی رہنما آیت یہ ہے: وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (9:122)۔ یعنی ، اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب نکل کھڑے ہوں، تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراتا تا کہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ اس آیت میں تفقہ کا لفظ وضاحت طلب ہے۔ پہلے ہم فقہ یا تفقہ کی لغوی تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس آیت کے مطابق علما کا کردار کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page