علما کا رول اسلام میں
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہ کا لفظ بعد کے زمانہ میں علم الفروع کے لیے بولا جانے لگا ہے۔ یعنی شریعت کے جزئی مسائل کو جاننا۔ مگر یہ اس لفظ کا ایک استعمال مفہوم ہے جو نزولِ قرآن کے بہت بعد رائج ہوا۔ قرآن میں فقہ موجودہ معروف معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس کے اصل لغوی معنی میں ہے۔ راغب الاصفہانی (م 502ھ) نے لکھا ہے کہ فقہ یہ ہے کہ موجود علم کے ذریعہ غائب علم تک پہنچا جائے۔ پس فقہ کا لفظ علم کے لفظ سے زیادہ خاص ہے (الفقہ: هُوَ التَّوَصُّلُ إِلَى عِلْمِ غَائِبٍ بِعِلْمٍ شَاهِدٍ فَهُوَ أَخَصُّ مِنَ الْعِلْمِ) المفردات في غريب القرآن، 384۔ لسان العرب (ابن منظور) میں اس کی مفصل تشریح ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ فقہ اصلاً فہم کے معنی میں ہے (الفِقْهُ فِي الْأَصْلِ الْفَهْمُ) ۔ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ کی تشریح اس نے اَئِي لِيَكُونُوا عُلَمَاءَ بہ کے لفظ سے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس کی بابت دعائیہ طور پر فرمایا تھا: اللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْدِّينَ وَفَقَّهْهُ فِي التَّأْوِيلِ ۔ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: أَي فَھِمَه تأويله وَمَعْنَاهُ - لسان العرب میں الاہری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے: قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ كِلَابٍ وَھُوَ يَصِفُ لِي شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ أَفَقِهْتَ؟ يُرِيدُ أَفْهَمْتَ ۔ قبیلہ کلاب کا ایک شخص مجھ کو ایک بات بتا رہا تھا۔ جب وہ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوا تو اس نے کہا: أَفَقِهْتَ ۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ کیا تم نے سمجھ لیا۔ اسی طرح لسان العرب میں اس سلسلے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: وَفِي حَدِيثِ سَلْمَانَ: أَنَّهُ نَزَلَ عَلَى نَبَطِيَّةٍ بِالْعِرَاقِ فَقَالَ لَهَا: ھَلْ هُنَا مَكَانٌ نَظِيفٌ أُصَلِّي فِيهِ؟ فَقَالَتْ: طَهِّرْ قَلْبَكَ وَصَلِّ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ سَلْمَانُ:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader