Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

فَقُهَتْ أَيْ فَهِمْتَ وَفَطِنْتَ لِلْحَقِّ (لسان العرب، جلد 13، صفحہ 522)۔ حدیث سلمان میں ہے۔ وہ عراق میں ایک نبطی عورت کے یہاں ٹھہرے۔ انھوں نے عورت سے کہا۔ کیا یہاں کوئی صاف جگہ ہے جہاں میں نماز پڑھوں۔ عورت نے کہا کہ اپنے دل کو پاک رکھو اور پھر جہاں چاہے نماز پڑھو۔ یہ واقعہ بتا کر سلمان نے کہا کہ: فَقُهَتْ ۔ یعنی، وہ عورت سمجھ گئی، اس نے حق کا ادراک کر لیا۔ اہل لغت کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ کا مطلب فہم اور بصیرت اور ادراک ہے۔ اس سے مراد وہ جاننا ہے جو معرفت کے درجہ تک پہنچ جائے۔ جو آدمی کو شناسائے حقیقت بنا دے۔ صرف عالم ہونا فقیہ ہونا نہیں ہے۔ فقیہ وہ ہے جو عالم ہونے کے ساتھ عارف بھی ہو۔ دائرہ عمل کی تقسیم اب مذکورہ آیت کو لیجئے۔ تفسیروں کے مطالعہ سے اس آیت کا جو پس منظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غزوہ تبوک (9ھ) میں مدینہ کے کچھ مسلمان نہیں جاسکتے تھے۔ ان متخلفین کے بارے میں قرآن میں سخت آیتیں اتریں۔ اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوا کہ بعض سراپا پیش آئے تو اس میں مدینہ کے تمام اہل ایمان چلے گئے۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم دین سیکھنے کے لیے کوئی آدمی شہر میں باقی نہ رہا۔ اس وقت لوگوں کو عمومی خروج سے روکنے کے لیے یہ آیت اتری۔ اس آیت میں امت کو مستقل نوعیت کا ایک رہنما اصول دے دیا گیا۔ وہ یہ کہ جہاد بالسيف اور علم کے میدان کو عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ امت کے ایک طبقہ کی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جہاد کے شعبوں میں مشغول ہو۔ امت کے دوسرے طبقہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ علم کے شعبوں کو سنبھالے اور اپنے آپ کو پوری طرح اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page