تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
وطن (homeland) سے مانا جاتا ہے۔ جب کہ مسلمان، دور جدید کی مسلم تحریکوں کے زیر اثر، اپنی قومیت کو اپنے مذہب سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ اس تضاد نے جدید دور کے مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک برائی کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ یا تو وہ اپنے ملک میں باغی بن کر رہیں۔ کیوں کہ وطنی قومیت کو نہ ماننا اہل ملک کی نظر میں بغاوت کے ہم معنی ہے۔ دوسرا بدل ان کے لیے یہ ہے کہ وہ منافقانہ روش اختیار کر لیں۔ یعنی دل کے اندر تو وطنی قومیت کے منکر بنے رہیں، مگر عملی زندگی میں ہر جگہ اپنی قومیت وہی ظاہر کریں جو ملکی حالات کا تقاضا ہے۔ غیر مسلموں کی طرف سے یہ مسئلہ بار بار مختلف صورتوں میں اٹھایا گیا ہے۔ انگلش میگزین سنڈے (25-19 نومبر 1995ء) میں مسٹر آرن شوری کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہے ۔ اس میں انھوں نے یہ کہا ہے کہ ایک شخص اگر گڈ مسلم (Good Muslim) ہے تو وہ گڈ انڈین (یا گڈ فرنچ ، گڈ جرمن) نہیں ہو سکتا ہے۔ 28 نومبر 1995ء کو میں نے یہ انٹرویو پڑھا۔ اس کے فورا بعد میں نے مسٹر آرن شوری کو ٹیلی فون کیا۔ میں نے کہا کہ یہ کیسی بات آپ نے کہہ دی۔ آپ کی تعریف کے مطابق، میں گڈ مسلم ہوں۔ مگر اسی کے ساتھ میں ایک گڈ انڈین بھی ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر میں گڈ انڈین نہیں ہوں تو سارے ملک میں کوئی بھی شخص گڈ انڈین نہیں۔ حتی کہ میں کہوں گا کہ اگر کوئی شخص مجھ کو گڈ انڈین نہ مانے تو اس کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مہاتما گاندھی بھی گڈ انڈین نہیں تھے۔ مسٹر آرن شوری نے فوراً اس کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ میں تو آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ آپ پورے معنوں میں ایک گڈ انڈین ہیں۔ میں نے اپنے انٹرویو میں آپ کا نام لے کر آپ کی بہت تعریف کی تھی، مگر میگزین والوں نے میرا پورا انٹرویو نہیں چھاپا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader