Urdu book · فکر اسلامی

دائرہ عمل کی تقسیم

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

میں وقف کرے۔ کیوں کہ وقف کیے بغیر کما حقہ اس کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ مفسرین نے مزید وضاحت کی ہے کہ علم کے شعبوں میں محنت کے لیے ٹھہرنا کوئی تخلف کی بات نہیں ہے۔ یہ علم کی طاقت سے جہاد کرنا ہے جو معروف ہتھیاروں کے ذریعہ جہاد کرنے سے زیادہ اہم ہے: "فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ إِلَى الْجِهَادِ وَيَبْقَى سَائِرُهُمْ يَتَفَقَّهُونَ حَتَّى لَا يَنْقَطِعُوا عَنِ التَّفَقَّهُ الَّذِي هُوَ الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ إِذِ الْجِهَادُ بِالْحِجَاجِ أَعْظَمُ أَثْرًا مِنَ الْجِهَادِ بِالنِّضَالِ" (تفسیر النسفی، مدارک التنزیل، جلد 1، صفحہ 717)۔ پس لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت جہاد کے لیے نکلے اور بقیہ لوگ مدینہ میں رہ کر دین سیکھیں تا کہ وہ علم دین سے کٹ نہ جائیں جو کہ زیادہ بڑا جہاد ہے۔ کیوں کہ دلائل کے ذریعہ جہاد کی تاثیر ہتھیاروں کے ذریعہ جہاد سے بہت زیادہ ہے۔ اس اصول کا مطلب مذہب اور سیاست کی تفریق نہیں ہے۔ بلکہ خود اہل مذہب کے دو طبقوں کے دائرہ عمل کی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کا دین ایک ہے۔ دونوں یکساں طور پر دین کے مخاطب ہیں۔ مگر عملی اختیار سے دونوں کے دائرہ کار کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا ہے۔ عورت کے ذمہ نسل انسانی کی تربیت ہے، اور مرد کے ذمہ عمل انسانی کا انتظام۔ اسی طرح خود مردوں میں بھی مختلف تقسیمات ہیں۔ اس میں سے ایک تقسیم یہ ہے کہ اسلام میں اہل علم اور اہل سیاست کے دائرہ کار کو، بنیادی طور پر، الگ کر دیا گیا ہے۔ اہل علم کا کام یہ ہے کہ وہ شعور انسانی کے نگراں بنیں۔ وہ ہر دور میں شعور انسانی کی تشکیل کے لیے معلم کا کردار ادا کریں۔ تا کہ عقلیت بشری یا شاکلہ انسانی فطرت کی راہ سے بھٹکنے نہ پائے۔ جہاں تک عملی سیاست کا تعلق ہے۔ اس کے لیے مخصوص صلاحیتیں درکار ہیں۔ ہر آدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page