Urdu book · فکر اسلامی

دائرہ عمل کی تقسیم

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

عملی سیاست کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتا۔ انسانی صلاحیتوں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ اصرار امت کو یہ اشارہ دیا کہ آپ کے بعد وہ ابوبکر صدیق کو امیر مقرر کرے۔ دوسری طرف آپ نے ابوذر غفاری، ابو ہریرہ اور حسان بن ثابت کو یہ مشورہ دیا کہ تم کبھی کوئی حکومتی عہدہ قبول نہ کرنا۔ پیدائشی صلاحیتوں کے اس فرق کی بنا پر کچھ لوگ حکومتی شعبوں کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو سیاسی صلاحیت رکھنے والوں کے حوالے کر کے بقیہ لوگوں کو اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ملت کے مختلف شعبوں میں مصروف کر دیا جائے ۔ اس کے مطابق، اہل سیاست کا کام اگر تنظیم انسانی ہے تو اہل علم کا کام تعلیم انسانی۔ اہل علم اور اہل سیاست کے درمیان تقسیم کار کے معاملہ کو حدیث میں اور زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ، خاص طور سے کتاب الفتن کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں حکومتی بگاڑ کے ذیل میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر تم لوگ دیکھو کہ حکمراں بگڑ گئے ہیں تب بھی تم حکمراںوں سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم اپنی تلواروں کو توڑ دینا مگر ایسا نہ کرنا کہ حکمراںوں کو ظالم قرار دے کر ان سے لڑنے لگو۔ یہ دراصل مذکورہ تقسیم عمل کو آخری اور انتہائی صورت میں بھی باقی رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی علما امت کو نہ صرف عام حالات میں معلم انسانی کا کردار ادا کرنا ہے۔ بلکہ اس وقت بھی انہیں اسی تعمیری کام میں لگے رہنا ہے جب کہ وہ دیکھیں کہ حکمراںوں کے اندر بگاڑ آ گیا ہے۔ حکومتی نظام خواہ ظاہر کتنا ہی بگڑا ہوا نظر آئے مگر علما کو کسی بھی حال میں اپنے مفوضہ کام سے نہیں ہٹنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page