ایک حدیث
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کا مطالعہ اس ذیل میں بہت اہمیت رکھتا ہے : "عن يَحْيَى بْنِ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صلى الله عليه وسلم: كَمَا تَكُونُونَ كَذَلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (شعب الایمان للبیھقی، حدیث نمبر 7391) ۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے تم لوگ ہو گے ویسے ہی تمہارے اوپر حاکم بنائے جائیں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہے کونیت بشری، اور دوسری چیز ہے امارت بشری۔ کونیت بشری سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ اور ان کی پسند و ناپسند کیا ہے۔ اور امارت بشری سے مراد ہے کسی انسانی مجموعہ کے اوپر سیاسی حاکم ہونا۔ کونیت بشری کے اعتبار سے کوئی سماج جس حالت میں ہوگا اسی کے مطابق اس سماج کے درمیان سیاسی ڈھانچہ بنے گا۔ علما ابدی طور پر کونیت بشری کے نگراں ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ ہر دور میں تکوین شعور یا شاکلہ انسانی کی تصحیح کرتے رہیں۔ اور امارت انسانی یا سیاسی ڈھانچہ کی تولیت کا کام اہل سیاست کے حوالے کر دیں۔ زندگی کا نظام جب تک تقسیم عمل کے اس اصول پر چلے گا، وہ درست رہے گا۔ اور جب یہ تقسیم عمل باقی نہ رہے تو زندگی کا نظام بھی بگڑ جائے گا۔ صحیح انسانی شاکلہ سے صحیح نظام حکومت برآمد ہوتا ہے اور غلط انسانی شاکلہ سے غلط نظام حکومت۔ زندگی میں کونیت بشری کا معاملہ امارت بشری سے زیادہ اہم ہے۔ کونیت بشری کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت اوپری ڈھانچہ کی۔ ظاہر ہیں لوگوں کو اگرچہ بنیاد کے مقابلہ میں اوپری ڈھانچہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت میں شخص ہمیشہ بنیاد کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader