فکر اسلامی
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکام کے مقابلہ میں علما کا درجہ زیادہ ہے اور ان کا ثواب بھی زیادہ۔ آغازِ اسلام کی اس ہدایت نے امت کے آئندہ سرگرمیوں کا رخ متعین کر دیا۔ دورِ اول میں اصحابِ رسول کی ایک جماعت جہاد کے عمل میں مشغول ہوئی۔ اسی کے ساتھ ان کی دوسری جماعت، مثال کے طور پر عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر وغیرہ، علمی اور دعوتی شعبوں میں اپنے آپ کو وقف کیے رہے۔ صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں بھی یہی تقسیم قائم تھی۔ لوگ مختلف علمی میدان، تفسیر، حدیث، فقہ اور ان سے تعلق رکھنے والے دوسرے علمی شعبوں میں مشغول رہے۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ یہ لوگ قراء، محدثین، فقہا، علما، صوفیا اور معلمین وغیرہ کی صورت میں یکسوئی کے ساتھ اپنے مخصوص میدان میں سرگرم عمل رہے۔ اسی تقسیم کار کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ عظیم علمی اور دعوتی تاریخ بنی جو آج مِلّتِ اسلامی کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر تمام کے تمام لوگ جہاد و قتال کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے تو یقینی طور پر اسلام کی تاریخ میں ایک خلا پیدا ہو جاتا جو قیامت تک کبھی دوبارہ پر نہ ہوتا۔ اورنگ زیب عالم گیر میرا خیال ہے کہ یہ روایت سب سے پہلے قابلِ لحاظ درجہ میں اورنگ زیب عالم گیر (1707-1618) کے زمانہ میں ٹوٹی۔ اورنگ زیب اگرچہ شاہی خاندان میں پیدا ہوا۔ مگر وہ پورے معنوں میں ایک عالم تھا۔ اس کا باپ شاہ جہاں اس کے بجائے داراشکوہ کو اپنا ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔ اس طرح حالات اورنگ زیب کو اس طرف لے جا رہے تھے کہ وہ بادشاہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک عالم کا کردار ادا کرے۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے 1658ء میں اپنے باپ شاہ جہاں کو تخت سے معزول کر کے آگرہ کے قلعہ میں قید کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader