Urdu book · فکر اسلامی

اورنگ زیب عالم گیر

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا۔ اور اپنے بھائی داراشکوہ کو 1659ء میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد تقریبا نصف صدی تک وہ مغل سلطنت کا مالک بنارہا۔ ”تاج“ سے محرومی کے باوجود اورنگ زیب کو بہت سے اعلیٰ وسائل حاصل تھے۔ اگر وہ بادشاہ کا رول ادا کرنے کے بجائے عالم کا رول ادا کرنے پر راضی ہوجاتا تو وہ اتنا بڑا کام کرسکتا تھا کہ آئندہ کئی صدیوں تک آنے والے علما کے لیے وہ مشعل راہ کا کام دیتا۔ اورنگ زیب کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں علم جدید کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اس کے اثرات ہندوستان کے ساحل تک پہنچ چکے تھے۔ مگر اورنگ زیب اس سے بے خبر رہ کر وقتی سیاست میں پڑارہا۔ شاہ جہاں نے ہندوستان میں تاج محل بنایا تھا۔ اورنگ زیب کے لیے موقع تھا کہ وہ ہندوستان میں علم محل کی تعمیر کرے ۔ ملک کا سیاسی ایمپائر دارا شکوہ کے حوالے کر کے وہ ملک میں ایک ایجوکیشنل ایمپائر بناسکتا تھا۔ اگر اورنگ زیب ایسا کرتا تو وہ اسلام اور ملت اسلام کو اس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچاتا جو اس نے سیاست اور جنگ کے راستہ سے پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اورنگ زیب اگر ”دکن“ کا سفر کرنے کے بجائے ”یورپ“ کا سفر کرتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ وہ ایک خلاف زمانہ عمل میں مبتلا ہے ۔ وہ شمشیر کی سیاست کے ذریعہ دنیا میں اسلام کو سر بلند کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اب دنیا میں اس دور کا آغاز ہو چکا ہے جو بالآخر یہاں پہنچے گا کہ علم کی سیاست لوگوں کے لیے سر بلندی کا ذریعہ بن جائے گی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اورنگ زیب اور اس زمانہ کے دوسرے علما نہ صرف یورپ کی ترقیوں سے بے خبر تھے بلکہ وہ اس سے پہلے کی ان ترقیوں سے بھی نا واقف تھے جو مسلمان اسپین کے دور حکومت (1492-711) میں کر چکے تھے۔ اسپین میں جب مسلم سلطنت کو زوال ہوا تو وہاں کے علما اور سائنس داں اسپین سے نکل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page