تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر سوال کسی ایک فرد کے گڈ انڈین ہونے کا نہیں ہے بلکہ اصول کا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک شخص اچھا مسلمان ہوتے ہوئے کیا اچھا انڈین یا اچھا فرنچ بن سکتا ہے یا نہیں۔ اس معاملہ میں میں ارن شوری جیسے لوگوں سے زیادہ ان مسلم مفکرین (مثلاً علامہ اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ) کو ذمہ دارٹھہراتا ہوں جنھوں نے غلط طور پر اپنے خود ساختہ افکار کو اسلام کی طرف منسوب کیا۔ اس معاملہ میں وہی بات درست ہے جو مولاناحسین احمد مدنی نے کہی تھی۔ 1947ء سے پہلے انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’اس زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘‘ (شرح ارمغان حجاز، یوسف سلیم چشتی، 1982، نئی دہلی، صفحہ 272)۔ یہی اسلام کا صحیح نقطہ نظر ہے۔ عصرِ جدید میں اسلام کی تشریح نو کا ایک کام یہ بھی ہے کہ اس اصول کو دلائل وحقائق کی روشنی میں مرتب کرکے لوگوں کے سامنے لایا جائے ۔ یہ انسان کا بے حد کمتر اندازہ ہوگا اگر یہ سمجھا جائے کہ دوخوبی (goodness) بیک وقت ایک انسان میں جمع نہیں ہوسکتی۔ موجودہ کتاب میں اسی قسم کے مباحث پر اصولی حیثیت سے کلام کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو وہ مجتہدانہ روش دکھائی جائے جس کے ذریعہ سے وہ عصر حاضر کو اور اسلام کے جدید تقاضوں کو سمجھیں۔ وہ ان غلطیوں سے بچیں جس نے موجودہ زمانہ میں ان کی تمام کوششوں اور قربانیوں کو حبطِ اعمال کے خانہ میں ڈال دیا ہے۔ تاہم زیر نظر مجموعہ کی حیثیت ایک ابتدائی کوشش کی ہے۔ وہ زیر بحث مسئلہ پر ہر پہلو سے کوئی جامع کتاب نہیں۔ وہ صرف اس لیے ہے تاکہ اس موضوع کی خصوصی اہمیت کو لوگوں کے سامنے نمایاں کیا جاسکے۔ وہ آغازِ کلام ہے، نہ کہ خاتمۂ بحث۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader