Urdu book · فکر اسلامی

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

یورپ میں نئے دور کا پنچ پڑ چکا تھا جو بالآخر پوری نوع انسانی کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والا تھا۔ وہ دورِ تقلید کو دورِ سائنس میں تبدیل کر دینے والا تھا۔ پچھلے زمانہ میں (بشمول دورِ شرک) کائناتى واقعات کی تشریح اعتقادی اصطلاح میں کی جاتی تھی۔ اب تاریخ بشری میں پہلی بار ایک ایسا دور آ رہا تھا جب کہ کائناتى واقعات کی تشریح خالص اسباب مادی کی اصطلاحوں میں کی جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ شاکلہ انسانی تبدیل ہو جائے۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے قریبی واقعات میں الجھ کر رہ گئے۔ وہ دور رس بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے، جو کہ دراصل قائم الزمان ہونے کا تقاضا تھا۔ قدیم زمانہ میں واقعات عالم کی تشریح اعتقادی اصطلاحوں میں کی جاتی تھی۔ یعنی جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ اسلام سے پہلے غلبہ شرک کے زمانہ میں اس اعتقادی تشریح کے لیے کئی خداؤں کے حوالے دیے جاتے تھے۔ اسلام کے بعد غلبہ توحید کا زمانہ آیا تو صرف ایک خدا کی بنیاد پر تمام واقعات عالم کی تشریح کی جانے لگی۔ موجودہ دور پوری معلوم تاریخ میں پہلا دور ہے جب کہ واقعات عالم کو اسباب مادی کی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔ سولہویں صدی عیسوی میں مظاہر فطرت کی باقاعدہ علمی تحقیق کی جانے لگی۔ گلیلیو گلیلی (1642-1564) نے چاند اور سیاروں اور دوسرے مظاہر فطرت کا مطالعہ کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ فطرت ایسے محکم قوانین کے تحت عمل کرتی ہے جن کوریاضیاتی صحت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ فطرت کی کتاب سب کی سب ریاضی کی صورت میں لکھی گئی ہے: The book of nature is written in mathematical form. (Encyclopedia Britannica, vol 15, p. 530) چرچ کی مخالفت کے باوجود یہ طرزِ فکر بڑھتا رہا۔ سترھویں صدی میں کثیر تعداد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page