Urdu book · فکر اسلامی

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

یورپ میں ایسے اہلِ علم پیدا ہوئے جو کائناتی واقعات کی مشینی تشریح کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ مثلاً پوپ، ٹائیکو براہبی، کپلر، وغیرہ۔ یہ پروگرام جس کو عام طور پر مشینی فلسفہ کہا جاتا ہے، وہ سترھویں صدی کا غالب موضوع فکر تھا: اٹھارویں صدی میں سر آئزک نیوٹن نے اس فکری عمل کو تکمیل تک پہنچا دیا۔ نیوٹن کی کتاب، جس کا مختصر نام پرنسپیا (Principia) ہے، شاہ ولی اللہ کی وفات سے 75 سال پہلے 1687ء میں لاطینی زبان میں چھپی۔ اور 1729ء میں انگریزی میں شائع ہوئی۔ اسپیس، ٹائم، گریویٹی اور فورس کے موضوعات پر مختلف سائنسی ذہن پہلے سے کام کر رہے تھے۔ مگر اس معاملہ میں کامیابی کا سہرا نیوٹن کے حصہ میں آیا۔ نیوٹن نے اپنی کتاب (پرنسپیا) میں یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کو ریاضیاتی معقولیت (mathematical reasoning) کے ذریعہ آخری طور پر ثابت کر دیا (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، جلد 6، صفحہ 888)۔ شاہ ولی اللہ کے زمانہ میں ایک نئے انقلاب کے تمام آثار ظاہر ہو چکے تھے۔ اس انقلاب کا فکری پہلو اسلام کے لیے بے حد اہمیت رکھتا تھا۔ وہ حقائق کی تقلیدی تشریح کو رد کر رہا تھا۔ اس کے نزدیک صرف وہ تشریح معقول اور مسلم حیثیت رکھتی تھی جو جدید سائنٹفک معیاریوں پر کی گئی ہو۔ مگر شاہ ولی اللہ ان عالمی تبدیلیوں سے یکسر بے خبر رہے۔ شاہ ولی اللہ واقعات کو دہلی کے محدود دائرہ میں دیکھ رہے تھے اور ان کی اصلاح کی سطحی تدبیریں کر رہے تھے۔ اگر وہ سفر کرتے اور واقعات کا مطالعہ عالمی حالات کے پس منظر میں کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اصل مسئلہ ایک عالمی طوفان کا ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page