Urdu book · فکر اسلامی

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کہ اس نام نہاد سلطنت کو بچانے کی لاحاصل کوشش کرنے کی جو اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر "حکومت شاہ عالم از دلی تا پالم" کا مصداق بن چکی ہے۔ شاہ ولی اللہ جس مغل سلطنت کو زندہ کرنا چاہتے تھے وہ اتنی دیمک زدہ ہو چکی تھی کہ اس نے زندگی کی طاقت کھودی تھی۔ اس کے باوجود وہ اس سے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے تھے۔ التفہیمات الالهیہ میں وہ شاہان وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بادشاہوں سے کہتا ہوں کہ اے بادشاہو، اس زمانہ میں ملأ اعلیٰ کی مرضی یہ ہے کہ تم لوگ تلواروں کو کھینچ لو، پھر ان کو نیام میں داخل نہ کرو جب تک اللہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فرق نہ پیدا کر دے اور کافروں اور فاسقوں کے سرکش افراد اپنے کمزوروں سے نہ مل جائیں۔ وہ اپنے لیے کچھ کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اور یہی اللہ کا حکم ہے کہ تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے : ”وَأَقُولُ لِلْمُلُوكِ أَيُّهَا الْمُلُوكُ ، الْمَرْضِيُّ عِنْدَ الْمَلَأِ الْأَعْلَى فِي هَذَا الزَّمَانِ أَنْ تَسُلُّوا السُّيُوفَ ثُمَّ لَا تُغْمِدُوهَا حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ فُرْقَانًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى يَلْحَقَ مَرَدَةُ الْكُفَّارِ وَالْفُسَّاقِ بِضُعَفَائِهِمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ شَيْئاً۔ وهو قوله تعالى: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ“ (التفہیمات الالهیہ، 1936، جلد 1، صفحہ 215-16) یہ نام نہاد ملوک اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ صرف پالکی میں بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے تھے۔ دہلی کے وزیر امداد الملک غازی الدین نے 1754ء میں شاہ ولی اللہ کے ہم عصر جہاں دار شاہ کے لڑکے کو تخت پر بٹھایا اور اس کا لقب عالمگیر ثانی رکھا۔ 1757ء میں افغان سردار احمد شاہ ابدالی دہلی آیا اور اس کو شہنشاہ ہند کا خطاب عطا کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page