شاہ ولی اللہ دہلوی
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جلد ہی بعد 1759 میں اسی وزیر نے عالم گیر ثانی کو قتل کر دیا جس نے چند سال پہلے اس کو تخت پر بٹھایا تھا۔ ایسی سلطنت کے سامنے جہاد بالسيف کی تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسے مردہ لاشوں کے سامنے رجز پڑھنا۔ شاہ ولی اللہ کا یہ کارنامہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے گرتی ہوئی مغل سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ کابل کے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلوایا۔ اس نے 1761ء میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کو شکست دے کر مغل سلطنت کے دشمن کو کچل دیا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ واقعہ شاہ ولی اللہ کے کارنامہ کے خانہ میں درج کرنے کے بجائے اس قابل نظر آئے گا کہ اس کو ان کی بے بصیرتی کے خانہ میں لکھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں شاہ ولی اللہ کا زیادہ بڑا کارنامہ یہ ہوتا کہ وہ ابن خلدون (1332-1406) کے مقدمہ کے وہ صفحات پڑھتے جس میں ابن خلدون نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کسی سلطنت کی بھی اسی طرح عمر ہوتی ہے جس طرح افراد کی عمر ہوتی ہے: إِنَّ الدَّوْلَةَ لَهَا أَعْمَارٌ طَبِيعِيَّةٌ كَمَا لِلْأَشْخَاصِ (مقدمہ، صفحہ 170) اور یہ کہ جب کوئی سلطنت بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کا اٹھنا ممکن نہیں ہوتا: أَنَّ الْهَرَمَ إِذَا نَزَلَ بِالدَّوْلَةِ لَا يَرْتَفِعُ (مقدمہ، صفحہ 293)۔ شاہ ولی اللہ اگر اس راز کو جانتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ وہ اس دیمک زدہ ستون کو بے فائدہ طور پر سنبھالنے کی کوشش کریں جس کے لیے گرنا خود قدرت کے قانون کے تحت مقدر ہو چکا ہے۔ بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ نئے حالات کو سمجھیں اور پھر سے امت کی نئی تاریخ بنانے کی کوشش کریں جس کے عین سرے پر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader